The news is by your side.

پاکستان خطرے کی سرحد پرایک بارپھرچوکس

فوج بیس سال ایک آگ سے گزر کر کندن بنی ہے اب اس کا وژن بھی کلئیر ہے مقصد بھی واضح ہے اور سمت بھی متعین ہے یہ الفاظ تھے ڈی جی آئی ایس پی آر جنرل آصف غفور کے جنہوں نے چند روز قبل اپنی طویل اور جامع پریس کانفرنس میں اپنے مدلل انداز بیان سے پاکستان کے اندرونی اور بیرونی دشمنوں اور تمام آستین کے سانپوں کے چودہ طبق روشن کر دیئے اور دشمن کو واضح پیغام دیا کہ پاکستان اب ہر قسم کی جنگ کے تمام حربوں سے واقف ہے، چاہے وہ روائیتی جنگ ہو یا غیر روائیتی ہائیبرڈ وار ہو یا پھر انفارمیشن وار فیئر۔ مگر حیران کن بات تو یہ ہے کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے بظاہر تمام باتیں پاکستان کے دشمنوں اور ان کے ایجنڈے کو پروان چڑھانے والوں یا ان کی اندھی تقلید کرنے والوں کے خلاف کیں۔ مگر نجانے کیوں بہت سے سیاسی حلقوں میں کھلبلی سی مچی ہوئی ہے ۔جسے دیکھو ہر کوئی ٹویٹ کر رہا ہے یا پھر بیان داغ رہا ہے جس سے یوں معلوم ہوتا ہے کہ کہیں یہ چور کی ڈارھی میں تنکے والا معاملہ تو نہیں۔۔۔؟؟؟

بہر کیف واضح رہے کہ ہائیبرڈ وار فئیر وہ طرز جنگ ہے جس کا بری طرح شکار ہونے کے بعد پاکستان نے گزشتہ کچھ عرصے میں بہت سے خطرات سے بہترین انداز میں نمٹتے ہوئے ان عناصر کونہ صرف غیر مؤثر بنایا بلکہ ان کے خلاف بیانیے کی جنگ بھی نمایاں طور پر جیتی۔ لال مسجد، ایم کیو ایم،مسنگ پرسنز ایشو، ماما قدیراور دیگر علیحدگی پسند بلوچ قیادت جیسے گھمبیر معاملات کے مد مقابل حکومت پاکستان نے انہیں صرف عوام کے درمیان غیر مؤثر کرنے کی نہایت کارآمد پالیسی کا انتخاب کیا اور اس کے لئے صرف سافٹ پاور پر اکتفا کیا جس کے نتائج سے ہم سب بخوبی واقف ہیں۔ حال ہی میں پی ٹی ایم جو پشتون کارڈ کے لبادے میں خلفشار کی متحمل تنظیم سمجھی جاتی ہے سے اپنی اسی پالیسی کے ذریعے نمٹنے کی سرتوڑ کوشش کی جس سے کچھ عرصے کے لئے فوائد بھی حاصل ہوئے، مگر چونکہ یہ معاملہ کچھ بین الاقوامی ایجنسیوں اور ریاستوں کی مکمل ایماء اور آشیرباد سے پروان چڑھ رہا ہے، اس لئے اسےزندہ رہنے کے لئے درکار آکسیجن بھی انہی پاکستان مخالف قوتوں کی جانب سے بذریعہ بین الاقوامی میڈیا تواتر کے ساتھ باہم فراہم کی جاتی رہی ہے، جس سے اس تنظیم کی مکمل آبیاری ہوتی رہی ۔

اور اب تو یہ انتشار پسند تنظیم کھل کر فرنٹ فٹ پر کھیل رہی ہے اور اس کے ٹھیک ٹھاک پر پرزے بھی نکل آئے ہیں۔ جنہیں پاکستانی قانون کے مطابق کاٹنے کا ارادہ باقاعدہ طور پر اب کر لیا گیا ہے جس کا اظہار ڈی جی آئی ایس پی آر نے اپنی پریس کانفرنس میں بھی کیا تھا۔ چونکہ پاکستان پہلے ہی خطرات سے گھرا ہوا ہے اس لئے اب وہ اپنی آستین میں مزید سنپولیے پالنے کا متحمل نہیں ہو سکتا، نیز پاکستان اچھی طرح جانتا ہے کہ انہیں فنڈنگ کہاں سے اور کیسے ہو رہی ہے؟ اور ان کے مقاصد ہیں کیا آخر؟۔

بین الاقوامی قوتیں شطرنج کی بساط پر اپنے تمام سیاسی، سماجی مہرے بری طرح پٹ جانے کے بعد پی ٹی ایم کی تنظیم کے ناتواں کندھے کو بروئے کار لاتے ہوئے پاکستان کو غیر مستحکم کرنا چاہتی ہیں جس سے پاکستان بالکل واقف ہے۔ اور اس میں بھی کوئی دو رائے نہیں کہ افواج پاکستان نے گزشتہ دو دہائیوں سے جو لڑائی دہشت گردی کے خلاف لڑی ہے اس نے افواج پاکستان کی صلاحیتوں میں گراں قدر اضافہ کیا ہے اس لئے ان کے لئے ان مٹھی بھر عناصر سے بذریعہ قوت نمٹنا گھنٹوں کی نہیں بلکہ لمحوں کی بات ہے۔ مگر پاک فوج تحمل سے کام لے رہی ہے۔ چونکہ ان کے ساتھ چند ایک پاکستانی نوجوان بھی شامل ہیں اس لئے ان سے نمٹنے کے لئے ہارڈ پاور کی بجائے سافٹ پاور کو بروئے کار لا یا جا رہا ہے۔

اگر آپ سماجی میڈیا پر ان کے حامیوں اور معاونین پر غور کریں تو آپ کو معلوم ہو گا یہ تمام وہ لوگ ہیں جو کبھی نہ کبھی، کہیں نہ کہیں، کسی نہ کسی صورت میں ڈالروں کے عوض اپنی قومی غیرت اور حمییت کے سوداگر رہے ہیں اور پاکستان اور فوج مخالف بیانیے کے حامی رہے ہیں۔ اوراب وہ پاکستان کی نوجوان نسل کو نام نہاد پشتون نعرہ لگا کر پاکستان کے خلاف بھڑکانے کی کوششیوں میں مگن ہیں۔ مگر پھر بھی پریشانی کی بات اس لئے نہیں ہے کیونکہ ہماری دھرتی کا دفاع پاکستان کے بہادر بیٹوں کےبھروسہ مند ہاتھوں میں ہے جنہوں نےکبھی اپنی قوم کو مایوس نہیں کیا۔

مگر جہاں تک بات ہے بین الاقوامی میڈیا کی جو انہیں باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت پروان چڑھا رہا ہے اس کے عزائم بھی کسی سے ڈھکے چھپے نہیں کہ یہ کن قوتوں کے آلہ کار ہیں اور کس کی ایماء پر یہ ایکشن میں ہیں۔۔۔!!!

پی ٹی ایم کی پوسٹس کو سماجی میڈیا پر باقاعدہ پیڈ طریقے سےپروموٹ کیا جاتا ہے یہ بالکل اچنبھے کی بات نہیں ہے کہ بھلا انہیں پی ٹی ایم کے پیڈ پروموشن کا کیا فائدہ ہو گا؟ اتنا ہی نہیں بلکہ انہیں بین الاقوامی الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا( بشمول مشہور عالمی جرائد میں) اپنے اپنے ملکوں کے مسائل پس پشت ڈال کر خاطر خواہ جگہ ترجیح بنیادوں پر فراہم کرتا ہے جو اس بات کی غمازی ہے کہ پی ٹی ایم پاکستان اور اس کے امن و امان کے خلاف کسی عالمی سازش کا شاخسانہ ہے۔

مگر آفرین ہے پاکستانی نوجوانوں پر جو ہر جگہ ہر فورم پر ان کے زہریلے بیانیے کو شکست دے رہے ہیں اگر آپ ان کی پوسٹس کے نیچے لوگوں کے کمنٹ پڑھیں تو زیادہ تر لوگ ان کے بیانیے کو رد کر رہے ہوتے ہیں۔ حتیٰ کہ سماجی میڈیا پر ان کی جانب سے جو پول عوامی رائے جاننے کے لئے چلائے جاتے ہیں اس میں اکثریتی رائے ان کے خلاف آتی ہے۔ جس کا کریڈٹ ہمارے قومی میڈیا کو جاتا ہے جس نے انہیں مین اسٹریم میڈیا میں بالکل تل دھرنے کی بھی جگہ فراہم نہیں کی۔ جس سے ہوا یہ کہ باشعور پاکستانی قوم کو اس بات کا ادراک ہوا کہ یہ ناراض پشتون نہیں بلکہ غیر ریاستی عناصر ہیں۔ یہ معصوم پشتونوں کو ڈھال بنا کر ڈالروں اور دیگر مراعات کے عوض اپنے اپنے ذاتی اُلو سیدھے کر رہے ہیں۔

اگر آپ کو کبھی قبائلی علاقوں میں جانے کا اتفاق ہوا ہو تو آپ کو معلوم ہو گا کہ وہاں جتنے ترقیاتی کام ہوئے ہیں سب پاک فوج نے کرائے ہیں۔ پہلے تو وہاں ماسوائے منشیات، کلاشنکوف اور گن کلچر کے کچھ نہیں تھا۔ مگر پاک فوج نے وہاں ملٹری آپریشنز کے فوری بعد ترقیاتی منصوبوں کا آغاز کیا اور یہ کوئی قبائلیوں پر احسان نہیں بلکہ ان کا حق تھا اور نیز یہ پاک فوج کی انسداد دہشت گردی کی حکمت عملی کا بنیادی جزو بھی تھا، تاکہ قبائلی عوام کو قومی دھارے میں شامل کیا جاسکے۔ پاک فوج نے وہاں اسکول بنائے، ہسپتال کھولے، سڑکیں تعمیر کیں، پانی کے منصوبے شروع کئے اور بازار تعمیر کئے اور وہاں کے نوجوانوں کو ترجیح بنیادوں پر پاک فوج اور دیگر سیکورٹی اداروں میں شامل کیا گیا۔

اگر آپ وہاں کے مقامی لوگوں سے بات کریں تو وہ پاک فوج سے والہانہ محبت کرتے ہیں۔ اور فوجیوں کو اپنا مسیحا سمجھتے ہیں جنہوں نے اپنی جانوں پر کھیل کر ان کی دہشت گردوں کے ہاتھوں میں یرغمال بنی زندگیاں بچا لیں۔ ورنہ آج بھی درہ آدم خیل کی گلیاں، وانا کے بازار اور وزیرستان کی مٹی چوہراؤں میں لٹکیں ان کی سر کٹی نعشوں کی گواہ ہے۔

پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر مقامی قبائلی عوام پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے تو پھر یہ پی ٹی ایم کے جلسوں میں شریک ہونے والے لوگ کون ہیں آخر۔۔۔؟؟؟ یہ وہ سانپ ہیں یا ان کی اولادیں ہیں جنہیں پاکستان گزشتہ تین عشروں سے دودھ پلا رہا ہے۔ جن کی شکلیں، ثقافت اور زبان پاکستان کے مقامی قبائل سے بہت ملتی جلتی ہے اور وہ اسے ڈالروں کے عوض بھرپور کیش کر رہے ہیں۔ ویسے بھی انسداد دہشت گردی کی تحقیق کی دنیا کا مشہور مقولا ہے کہ پناہ گزین جہاں بھی جاتے ہیں وہاں دہشت گردی ضرور آتی ہے۔ اس لئےان افغانی پناہ گزینوں کو اب ان کے ملک واپس بھیجنا بہت ناگزیر ہو گیا ہے کیونکہ ان کی یہاں موجودگی کی قیمت پاکستان کی سالمیت اور امن و امان کو خطرے میں ڈال کر چکائی جارہی ہے۔ نیز انہیں شہریت دینے کی غلطی سے ہمیں ہر صورت باز رہنا چاہیے کیونکہ یہ کبھی بھی پاکستان کے سگے نہیں بن سکتے۔ ان کی وجہ سے ہمارے معاشرے میں متشدد انتہا پسندی، کلاشنکوف کلچر اور منشیات عام ہوئی۔ پاکستان پہلے ہی بہت کر چکا ان کے لئے اب بس۔۔۔اور نہیں۔۔۔!!!

پاکستان بحیثیت ریاست قبائلی عوام کا درد رکھتی ہے اور ان کی بہتری اور حفاظت کے لئے ہر سو کوشاں ہے۔ ان کے مطالبات کے مطابق مائینز کو کلئیر کیا جارہا ہے جس کے دوران 101 فوجی اہلکاروں کی اب تک شہادتیں ہو چکی ہیں، جہاں تک بات ہے مسنگ پرسنز کی تو وہ لوگ اب افغانستان میں دہشت گردوں تنظیموں کا حصہ ہیں۔ اور منظور محسود کا اپنا بھائی دہشت گرد قاری محسن محسود بھی وہیں ہے اس لئے وہ یہاں واویلا مچانے کی بجائے ان سے کراس چیک کروائیں۔

علاوہ ازیں حال ہی میں حکومت پاکستان نے دس سال کے لئے قبائلی علاقہ جات کے لئے سوارب روپے خرچ کرنے کا منصوبے کا اعلان کیا ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ سال فاٹا کی تمام شورش زدہ ایجنسیوں کا خیبر پختونخواہ کے ساتھ انضمام ہو گیا تھا جس کے بعد فورسز کی جگہ لیویز اور پولیس فاٹا کی ذمہ داری سنبھال رہی ہیں۔ جس کے لئے پولیس اسٹیشن تعمیر کئے جارہے ہیں اور مقامی لوگوں کو پولیس میں نوکریاں بھی دی جارہی ہیں، جبکہ اب وہاں جرگہ سسٹم کی جگہ باقاعدہ عدالتیں لے رہی ہیں۔ انٹر نیٹ سروس بھی فراہم کی جارہی ہے غرض یہ کہ صحت، تعلیم، انفرااسٹرکچر، مواصلات۔ امن و امان، سیکورٹی اور سیاحتی شعبوں میں پہلے ہی ترقیاتی کاموں کاآغازہو گیا ہے۔

بس پاکستانی عوام کو اپنی صفوں اور آستینوں میں چھپے دشمنوں کو پہچاننا ہے اور انہیں بے نقاب کرنا ہے۔ دشمن کے ورغلانے میں نہیں آنا اور اس کے بیانیے کو رد کرنا ہے۔ افواج پاکستان قانون کے دائرے میں رہ کر اپنی ذمہ داری ادا کر رہی ہےاور ان سے بھی اپنی حکمت عملی کے مطابق نمٹ لے گی۔ مگر کچھ ذمہ داری ہماری بھی ہے کہ ہم اپنی آنکھیں اور کان کھلیں رکھیں اور اپنے لوگوں کو کبھی مایوس نہیں ہونے دیں، بس امید کا دیا جلائے رکھیں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

شاید آپ یہ بھی پسند کریں