The news is by your side.

پاکستان کی روحانی قیادت کہاں ہے؟

وطن عزیز پاکستان میں آج سیاست کے ایوانوں میں جھانکیں، یا عدلیہ کے کٹہروں میں نگاہ دوڑائیں، میڈیاکے پردوں پر دیکھیں یااخبار کی شہ سرخیوں کو پڑھیں، گلی محلے کے چوراہے سے لے کر اسلام آباد کی شاہراہ دستور تک، خیبر سے لے کر کراچی تک ہمیں پاکستان کی روحانی قیادت گمشدہ دکھائی دیتی ہے، منبر و محراب ویران دکھائی دیتے ہیں، یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ماحول گھٹن زدہ سا ہوگیا ہو،کیونکہ معاشرے سے گمشدہ روحانی قیادتوں کی وجہ سے مادیت کا غلبہ ہے اور لادینیت چار دانگ عالم پھیل رہی ہے۔

اسلامی جمہوریہ پاکستان کا سبز ہلالی پرچم اپنی شناخت کھورہا ہے اور نظریہ ”نظربندی“ کا شکار ہے۔ اگر ہم قیام پاکستان کی جانب پلٹ کر دیکھتے ہیں تو ہمیں قائد اعظم محمد علی جناح جیسی قیادت کے پیچھے صوفیائے کرام اور روحانی سلاسل سے تعلق رکھنے والی روحانی قیادت کی مکمل جماعت نظر آتی ہے، جن میں اگر میں چیدہ چیدہ نام لوں تو شیخ الاسلام خواجہ قمر الدین سیالوی، امیر ملت پیر سید جماعت علی شاہ،پیر عبداللطیف شاہ زکوڑی،پیر آف گولڑہ شریف، پیر امین الحسنات شاہ مانکی اور ان جیسے سینکڑوں آستانوں کے چشم و چراغ شامل ہیں،یہی وہ ہستیاں تھیں جن کی بدولت آل انڈیا مسلم لیگ نے اپنا ریفرنڈم جیتا۔

اگرباب الاسلام سندھ کی بات کی جائے تو پیر غلام مجدد سرہندی اور پیر محمد ہاشم جان سرہندی وہ ہستیاں تھیں جنہوں نے مسلم لیگ کیلئے ریفرنڈم میں مہمات کیں، سابقہ سرحد، موجودہ خیبر پختونخواہ میں مسلم لیگ کا ریفرنڈم جیتنے میں اہم کردار پیر محمد عبداللطیف زکوڑی شریف، پیر آف مکھڈ، پیر آف مانکی شریف کا تھا، اسی طرح مشائخ عظام نے قیام پاکستان کیلئے اپنا تاریخی کردار ادا کیا، مشائخ کرام کی جدوجہد محض تقریروں اور وعظ تک محیط نہ تھی بلکہ پاکستان کی حمایت کرنے کے وجہ سے مختلف مشائخ کی گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں۔

پیر سید امین الحسنات (مانکی شریف)، پیر صاحب زکوڑی شریف، خواجہ قمر الدین سیالوی، پیر صاحب گولڑہ شریف، مولانا ابراہیم چشتی، پیر آف تونسہ شریف، پیر صاحب مکھڈشریف اور دیگر اکابر پابند سلاسل ہوئے۔ 23مارچ 1940ء کے جلسہ عام میں جب قرارداد پاکستان پیش کی گئی تو سینکڑوں مشائخ عظام موجود تھے، جنہوں نے اپنی حمایت کا علم بلند کیا، امیر ملت پیر جماعت علی شاہ نے فتویٰ جاری کیا کہ جو قیام پاکستان میں جناح کا حامی نہیں اس کا جنازہ نہ پڑھا جائے، وہ خود ایک سپاہی کی طرح جناح کے دستے میں شانہ بشانہ رہے۔

یہ ان حالات کا مختصراً ذکر تھا جب خطے کی روحانی قیادتیں پاکستان کی جدوجہد میں اپنے تن من دھن کی بازی لگارہی تھیں، اب ایک نظر انہیں روحانی قیادتوں کی آل اولاد اور پاکستان کی موجودہ روحانی سلاسل کے گدی نشینوں اور سجادگان حضرات پر دوڑائی جائے تو ہمیں کہیں سے کوئی مضبوط آواز، جدوجہد کی ہلکی سی چنگاری بھی نظر نہیں آتی، پاکستان بننے کے بعد سادگی کہیے یا غلطی،مشائخ عظام دوبارہ گدی نشین ہوگئے اور زمام اقتدار میں آہستہ آہستہ ان کا کردار ختم ہوتا گیا۔

آج شیخ الاسلام کے آستانے سیال شریف میں کچھ تحرک تو دکھائی دیتا ہے مگر وہ وقتی چمک کی طرح آتے ہیں جو آنکھیں چندیا کر ہمیشہ کیلئے گم ہوجاتی ہے، آج پیر آف گولڑہ کے در سے ہمیں وطن عزیز کیلئے جدوجہد کی ہلکی سی کوشش کبھی کبھی دکھائی تو دیتی ہے مگر وہ کہیں غبار راہ بن جاتی ہے، آج زکوڑی شریف کے گدی نشین کیوں خاموش ہیں؟ آج تونسہ شریف، مکھڈ شریف، مانکی شریف سمیت ہزاروں روحانی آستانوں کی روحانی قیادتیں اپنی ذمہ داری سے کیوں بھاگ چکی ہیں؟۔

قیام پاکستان کے بعد تکمیل پاکستان کی بھاری ذمہ داری ہم نے چند جاگیرداروں اور وڈیروں کیلئے کیوں رکھ چھوڑی ہے؟ ملت کا درد آج گمشدہ کیوں ہے، ہمیں سالانہ عروس کے نام پر ہزاروں کے اجتماعات تو دکھائی دیتے ہیں مگر کسی آستانے سے کبھی تکمیل پاکستان کا اجتماع دکھائی نہیں دیتا؟ ہمیں نذر نیاز کے نام پر لاکھوں کے فنڈز اوردربار کی شان و شوکت بڑھانے کیلئے بڑی بڑی عمارتیں اور قلعہ نما فصیلیں تو دکھائی دیتیں ہیں مگر ان فصیلوں کے اندر کبھی پاکستان کیلئے فنڈز ریزنگ، غربت مٹاؤ پروگرام جیسے فلاحی کام سنائی یا دکھائی نہیں دیتے؟ کیا وجہ ہے کہ اب درگاہیں محض رسم و رواج کی پروردہ ہیں؟ ۔

کیا یہ روحانی زوال نہیں؟ یہ صرف درباروں، درگاہوں اور روحانی مراکز کا ہی زوال نہیں بلکہ یہ مجموعی طور پر ہمارے معاشرے کا روحانی زوال ہے، جس میں سے نکلنے کیلئے دوبارہ ہمیں وہی کردار دہرانا ہوگا جو امیر ملت ادا کرگئے، انہیں نقوش پر چلنا ہوگا جو شیخ الاسلام ثبت کرگئے، انہی راستوں پر گامزن ہونا ہوگا جو پیر آف زکوڑی اور پیر آف مانکی طے کرگئے۔

وقت کا تقاضا ہے کہ مشائخ عظام ”نکل کر خانقاہوں سے ادا کر رسم شبیری“ کے مصداق دوبارہ اٹھیں، اپنی ڈیڑھ انچ کی مسجد سے نکلیں اور ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کیلئے کا فریضہ سرانجام دیں، ورنہ یہ سلاسل محض رسموں تک محیط رہے تو اسلام صرف رسمی صورت اختیار کرجائے گا۔

ہمیں یہ ذہن نشین رکھنا چاہیے کہ پاکستان بنیادی طور پر ایک اسلامی نظریاتی مملکت ہے۔ آج پاکستان کے پاس سب کچھ ہے۔ عالم اسلام کی پہلی ایٹمی قوت ہے۔ آج اگر پاکستان میں کسی چیز کی کمی ہے تو وہ اتحاد اور قیادت کی کمی ہے، اگر اس قوم کو اتحاد و یگانگت نصیب ہو جائے تو دنیا میں سر اونچا کر کے چل سکتی ہے۔ لہذا میں پاکستان کی روحانی قیادت کے جانشینوں کے آگے ہاتھ جوڑے کھڑا ہوں اور صرف ”پاکستان“ کیلئے جاگ اٹھنے کا سوال کرتا ہوں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

شاید آپ یہ بھی پسند کریں