The news is by your side.

مقبوضہ کشمیر کی صورتحال، پاکستانی عوام کی ذمہ داری کیا ہے؟

بھارتی پارلیمنٹ کا آرٹیکل 370 ختم کرنا، مقبوضہ کشمیر میں کشیدہ صورت حال، بھارتی فوج کی تعداد میں اضافہ، حریت راہنما سید علی گیلانی کے ساتھ ساتھ محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ جیسے بھارت نواز راہنماؤں (ماضی) کی نظر بندی، دیگر حریت قیادت کو محصور کر دینا، یاسین ملک کی تہاڑ جیل میں بگڑتی ہوئی صورت حال، لائن آف کنڑول پہ جھڑپوں میں تیزی، سول آبادی پہ بھارت کی جانب سے کلسٹر بموں کو استعمال، مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بڑھتی ہوئی پامالیاں، کشمیر میں عملاً کرفیو کی صورتحال، وادی میں موجود سیاحوں کے لیے وہاں سے چلے جانے کی ہدایات، مقبوضہ علاقے کے تعلیمی اداروں میں ہنگامی حالات کے پیش نظر اقدامات، ہسپتالوں میں ایمرجنسی کے احکامات، اس پوری صورتحال پہ نگاہ ڈالیے۔ حالات کسی بھی طرح سے حوصلہ افزاء نہیں ہیں۔ جنگ تباہی کا مژدہ سناتی ہے، اس کے باوجود جنگ سے بچنے کے اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں۔

ان تمام حالات پہ نگاہ ڈالیے تو یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے حالات ہر گزرتے دن کے ساتھ ابتری کی طرف جا رہے ہیں۔ بھارت کی طرف سے تو کوئی امید نظر نہیں آتی کہ وہ حالات کی بہتری کے اقدامات میں ہمارا ساتھ دے۔ کیوں کہ وہاں ایک ایسی حکومت ہے جو پاکستان دشمنی پہ ہی دوسری مرتبہ اقتدار کی راہداریوں میں پہنچ پائی ہے۔ تو اب بھلا یہ امید کیوں رکھی جا سکتی ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ جنگ کے بجائے مذاکرت کی میز پہ بیٹھنا پسند کریں گے۔

دوسری جانب سونے پہ سہاگہ یہ ہوا کہ عالمی طاقت کے وقت سے پہلے بولنے والے صدر ٹرمپ نے مودی کی ثالثی کی خواہش، اور پھر مسلہ کشمیر پہ اپنی طرف سے ثالثی کی پیشکش کر کے مودی سرکار کو مشکل میں ڈال دیا ہے۔ حیرت اس بات پہ ہے کہ ایسے عالمی مسائل بیچ چوراہے بیان کرنے کے لیے ہوتے ہیں؟ اگر ثالثی کی صورتحال ہے بھی تو اسے اس وقت تک سامنے نہیں لایا جاتا جب تک دونوں فریقین مذاکرت پہ آمادہ نہ ہو جائیں۔ لیکن وقت سے پہلے اس بیان نے مودی سرکار کے لیے نئی مشکل کھڑی کر دی ہے جس سے نکلنے کے لیے وہ ہر حد سے آگے جانے کو تیار ہوں گے۔ ووٹ انہوں نے پاکستان دشمنی پہ لیا، سرحدوں پہ کشیدہ صورتحال کو انہوں نے انتخابات میں کیش کرایا۔ بھارتی گرفتار ہونے والے پائلٹ کو انہوں نے اپنے ہیرو کے طور پہ متعارف کروایا۔اور اس کی رہائی کو اپنا دباؤ قرار دیا۔ اجتماعات میں شر انگیز تقاریر سے ہجوم میں ہیجان پیدا کرنا ان کی پرانی روایت ہے۔ تو ایسی حالت میں ہم کیسے توقع کر سکتے ہیں کہ ٹرمپ کی ثالثی کی پیشکش کسی بھی طرح مسئلہ کشمیر پہ ہمارے موقف کی جیت ہے۔

آپ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے حقیقت پہ مبنی بھارتی بربریت کی تصاویر لگائیے، انٹرنیٹ سے ہٹا دی جائیں گی۔ آپ ویڈیو کی صورت میں شیئر کیجیے، آپ کا اکاؤنٹ بلاک ہونے کے ساتھ ساتھ وارننگ بھی دی جائے گی۔ تو پھر ہمارے پاس بچتا کیا ہے؟ ہم ایسا کیا کریں کہ مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پہ اجاگر کر سکتے ہیں؟ جنگی ترانے سننے اور سنانے چھوڑیے۔ سرحدوں کا دفاع فوج کا کام ہے۔ اور فوج احسن طریقے سے کر رہی ہے۔ ہم میں سے ہر ایک زندگی کے جس شعبے میں ہے اس شعبے میں رہتے ہوئے مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنا اپنا فرض سمجھ لیجیے۔ دن کا کم از کم ایک گھنٹہ آپ مسئلہ کشمیر کے لیے مختص کر دیجیے۔ مباحثہ کیجیے کہ ہم کیسے اس مسئلے کے حل میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔

نشاندہی کیجیے کہ کن فورمز پہ کشمیر کے حوالے سے کچھ بھی لگاتے ہی بلاک ہو جاتا ہے۔ آپ ان فورمز سے ہٹ کے عالمی ویب سائٹس پہ مضامین بھیجیے۔ عالمی اخبارات، رسائل، جرائد پہ کشمیر کے حوالے سے خبروں، تبصروں، تجزیوں پہ رائے دینا شروع کیجیے۔ آپ تحقیق کیجیے کہ جو فورمز کشمیر کے حوالے سے بھارتی اجارہ داری کے زیر اثر ہیں ان کے متبادل کیا ہو سکتے ہیں۔ ان متبادل فورمز پہ جائیے۔ اپنے غیر ملکی دوستوں کے ساتھ کشمیر کی صورتحال شیئر کیجیے۔

ہمارے غیر ملکی سفارتخانے تو شاید ڈوزئیرز سے آگے نہیں نکل پا رہے۔ آپ اپنے اطراف سے احباب کو اپنے ساتھ ملائیے، اور واک کا اہتمام کیجیے۔ عالمی قوانین کے حوالے تلاش کیجیے اور کشمیریوں پہ ہونے والے مظالم کو ان عالمی قوانین کے تحت دنیا کے سامنے لائیے۔ کشمیر کے حوالے سے حقائق بلاک کیے جائیں گے کیوں کہ عالمی فورمز پہ اجارہ داری بھارت کی ہے۔ لیکن آپ متبادل تلاش کرنے پہ زور دیجیے۔ اخبارات میں کالمز کی صورت میں لکھیے، مشہور ویب سائیٹس پہ بلاگ کی صورت میں لکھیے، ایڈیٹر کے نام خط کی صورت میں رائے دیجیے۔ کسی نہ کسی حوالے سے مسئلہ کشمیر کو اپنا روز کا ایک گھنٹہ دیجیے۔

پاکستان میں موجود احباب اقوام متحدہ کے دفاتر کے سامنے اپنا ریکارڈ احتجاج کروائیے۔ بیرون ملک پاکستانی و کشمیری بھارتی سفارتخانوں اور اقوام متحدہ کے دفاتر کے سامنے پر امن احتجاج کیجیے۔ آواز کو مشکل سے سنا جائے گا لیکن آپ دیکھیں گے کہ رفتہ رفتہ سنا جائے گا۔

ہم میں سے ہر کوئی سرحدوں پہ نہیں لڑ سکتا۔ لیکن ہم اگر تھوڑی سے کوشش کریں تو کشمیر کے مسئلے کے لیے اپنا محاذ ہم خود بنا سکتے ہیں۔ اور کشمیر کو اس وقت آپ کے وقت کی ضرورت ہے، یہ وقت کشمیر کو دیجیے۔ اور اپنے کشمیری بہنوں بھائیوں پہ ہونے والے مظالم کو دنیا کے سامنے لانے کے لیے ایسی راہ اپنائیے کہ ان دیکھے طریقے سے دنیا بھارتی مظالم کا چہرہ دیکھ لے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

شاید آپ یہ بھی پسند کریں