The news is by your side.

دعا منگی: پولیس کا ہے فرض مدد آپ کی!

تحریر: تابش کفیلی
کراچی وہ شہر ہے جسے انسانوں کا جنگل کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ یہ سب سے زیادہ ریونیو دینے والا شہر ہے جسے اب لاوارث کہیے تو یہ بھی غلط نہیں‌۔ پولیس صرف خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے اور شہری ڈاکوؤں کے رحم وکرم پر ہیں۔

آئے روز ہونے والے واقعات پولیس کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ تازہ ترین واقعہ ڈیفنس سے اغوا کی گئی لڑکی دعا منگی کا ہے۔ اغوا کاروں نے دعا کے دوست کو سڑک پر سب کے سامنے گولی ماری اور دعا کو اٹھا لے گئے۔ پولیس سانپ نکل جانے کے بعد صرف لکیر پیٹتی رہی۔

دعا کے اہلِ خانہ نے کیس میں پولیس کی پھرتیاں دیکھتے ہوئے انھیں سارے معاملے سے دور رکھا اور بالا ہی بالا اغوا کاروں سے تاوان کی رقم طے کر کے ادا کردی اور دعا گھر لوٹ آئی، لیکن پولیس سوائے باتوں کے کچھ نہ کرسکی۔ پولیس کی جانب سے یہی کہا جاتا رہا کہ فلاں کو پکڑ لیا، فلاں گاڑی مل گئی، لیکن نتیجہ صفر رہا۔ یہی نہیں بلکہ دو دن پہلے کراچی کے علاقے سکھن سے لاپتا آٹھ سال کی لائبہ کی لاش بھی بھینسوں کے باڑے سے مل گئی اور پولیس ایک بار پھر لاش کے ساتھ اپنی کارکردگی ظاہر کرتی رہی۔

ایسے بےشمار واقعات ہیں جو سندھ پولیس کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ کراچی سے ہی اغوا ہونے والی بسمہ کے معاملے میں بھی پولیس ہوا میں تیر چلاتی رہی اور بسمہ بھی تاوان کی ادائی کے بعد ہی گھر واپس آئی۔ الغرض۔۔۔
کہاں تک سنو گے کہاں تک سناؤں
ہزاروں ہی شکوے ہیں کیا کیا بتاؤں؟

پولیس کی کارکردگی صرف مین پوری کھانے والوں کی جیبوں اور ایسے کیبینوں تک نظر آتی ہے۔ غریب کی دکان کا سامان اٹھا لیا اور مبینہ طور پر کسی کو فروخت کر دیا۔

شہریوں کا یہ حال ہے کہ پولیس جو ان کی محافظ ہے، اسے دیکھتے ہی راستہ بدل لیتے ہیں۔ شہریوں کا یہاں تک کہنا ہے کہ ڈاکوؤں سے ڈر نہیں لگتا صاحب، پولیس والوں سے لگتا ہے۔ روزانہ کتنے ہی شہری اپنے موبائل فونز، نقدی اور قیمتی اشیا سے محروم کردیےجاتے ہیں اس کا تو کوئی حساب ہی نہیں ہے۔

کئی واقعات ایسے ہیں جب شہری پولیس کی نااہلی اور غفلت کی وجہ سے جان کی بازی ہار گئے۔ یونیورسٹی روڈ پر انیس ماہ کا کم سن بچہ پولیس کی ناتجربہ کاری اور غفلت کا شکار ہوا۔ یونیورسٹی روڈ پر رکشے میں سوار خاندان کے اس بچے کو پولیس کی طرف سے چلائی گئی گولی نے زندگی سے محروم کر دیا تھا۔ قائد آباد میں پولیس کی اسی پیشہ ورانہ کم زوری اور ناتجربہ کاری نے بارہ سال کے بچے کی جان لے لی۔

امل قتل کیس تو شاید ہی کوئی بھول پائے۔ ڈیفنس موڑ پر گاڑی میں بیٹھی دس سالہ معصوم امل پولیس مقابلے میں دنیا سے چلی گئی۔ گلشن حدید میں بائیس سال کا نوجوان پولیس اہل کار سے تلخ کلامی کے بعد گولی لگنے سے جان کی بازی ہار گیا۔ انتظار قتل کیس کو کون بھول سکتا ہے جس میں اہل کاروں نے گاڑی پر اندھا دھند گولیاں برسا دیں اور انتظار کو قتل کر دیا۔ انتظار کے والد انصاف کے منتظر مگر انتہائی دل بر داشتہ ہیں۔ مقصود قتل کیس بھی ہمارے سامنے ہے۔

یہ وہ واقعات ہیں جو منظرِ عام پر آئے اور رپورٹ ہوئے۔ کئی واقعات ایسے ہیں جو رپورٹ ہی نہیں ہوئے۔ جعلی پولیس مقابلوں پر بھی میڈیا رپورٹیں ہمارے سامنے ہیں۔ اس ضمن میں ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کا نام کیسے نہ لیا جائے کہ نقیب اللہ محسود کا قتل افسر کے گلے کی ہڈی تو بنا لیکن نقیب کو انصاف نہ مل سکا۔ نقیب کے والد بھی انصاف کا انتظار کرتے کرتے دنیا سے چلے گئے۔

لیجیے بات کہاں سے شروع ہوئی اور کہاں پہنچ گئی۔ اگر سندھ پولیس کی نااہلی اور غفلت کی بات کی جائے ایسا ہی ہو گا اور صفحات کے صفحات بھر جائیں گے لیکن پولیس کے کارنامے ختم نہیں ہوں گے۔

یہ تو ہم سب نے سنا ہے، پولیس کا ہے فرض مدد آپ کی۔ مگر حکومت سندھ، پولیس افسران اور اہل کار بتائیں کیا واقعی ایسا ہے؟

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

شاید آپ یہ بھی پسند کریں