فوجی عدالتیں دس پندرہ سال پہلے بننی چاہئیں تھیں ، نوازشریف -
The news is by your side.

Advertisement

فوجی عدالتیں دس پندرہ سال پہلے بننی چاہئیں تھیں ، نوازشریف

بحرین : وزیرِاعظم نوازشریف کا کہنا ہے کہ مذاکرات ناکام ہونے پرآپریشن شروع کیا، آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جنگ جاری رہے گی۔

بحرین میں پاکستانی کمیونٹی سے خطاب میں وزیرِاعظم کا کہنا ہے کہ ہم بحرین کو اتنی اہمیت دیتے ہیں جتنی پاکستان کو دیتے ہیں ،دونوں ممالک ہمیں عزیز ہے ، اس کو بھی ایسا سمجھتے ہیں جیسے ہمارا ملک ہے، ہماری کوشش ہے کہ بحرین سے تعلقات کو مضبوط کیا جائے، تجارت اورباہمی تعلقات کو فروغ دیا جائے۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان کے موجودہ حالات ہے پہلے سے بہتری کی جانب گامزن ہیں، ہم پاکستان کی ترقی کیلئے دن رات کام کررہے ہیں، تمام تررکاوٹوں کے باوجود ہم آگے بڑھنے کی کوشش کررہے ہیں، بحرین کی قیادت پاکستانی افرادی قوت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔

وزیرِاعظم نے کہا کہ پاکستان میں بڑامسئلہ بجلی کی لوڈ شیڈنگ ہے، جس کا خاتمہ ہماری اولین ترجیح ہے ، جو گزشتہ حکومتوں کی عدم دلچسپی کی وجہ سے پیدا ہوا، جب ہم حکومت میں آئے تھے تو بجلی کا مسئلہ بہت سنگین تھا، بجلی کے مسئلے کی وجہ  سے ملک کی صنعتیں، صنعتی پیداوار، گھریلو صارفین متاثر ہورہے ہیں۔

نواز شریف نے کہا کہ ماضی میں اقدامات کئے جانے چاہیئے تھے، جو آج کئےجارہے ہیں۔ چین ہمارا دوست ہے، بجلی کی پیداوار میں چین ہماری مدد کرے گا، بھاشا ڈیم سے 4500 میگا واٹ بجلی ملنے کی امید ہے، بھاشا ڈیم، منگا اور تربیلا سے زیادہ پانی ذخیرہ کرے گا جو ملک کی زراعت میں مددگار ثابت ہوگا۔

نواز شریف نے کہا کہ افغان صدر اشرف غنی سے اس پر طویل بات چیت ہوئی اور دونوں نے فیصلہ کیا کہ اپنی سرزمین ایک دوسرے کے خلاف استعمال ہونے نہیں دیں گے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بھارتی وزیرِاعظم کی جانب سے تقریبِ حلف برداری کا دعوت نامہ ملنے پر میں دل سے بھارت گیا اور اگلے ہی روز ملاقات  میں نریندر مودی نے مذاکرات بحال کرنے کی یقین دہانی کرائی لیکن 25 اگست کو طے شدہ سیکرٹری خارجہ سطح کی میٹنگ یک طرفہ طور پر منسوخ کردی، جو مضحکہ خیز تھا اوراس میٹنگ کی منسوخی سمجھ میں نہیں آتی۔

وزیرِاعظم نے آپریشن ضربِ عضب کے حوالے سے پاکستانی کمیونٹی کو بتایا کہ ملک میں مسلح جتھوں اور گروہوں کا صفایا کرنے کے لئے آپریشن ضرب عضب شروع کر رکھا ہے اور دہشتگردوں کے خلاف فوجی عدالتیں بھی بنائی گئی ہیں تاکہ انہیں کیفر کردار تک پہنچایا جاسکے، فوجی عدالتیں دس پندرہ سال پہلے بننی چاہئیں تھیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں