The news is by your side.

Advertisement

آرمی چیف سے ثالث بننے کی درخواست نہیں کی، وزیراعظم

اسلام آباد: وزیراعظم نوازشریف نے کہا ہے کہ طاہرالقادری اور عمران خان نے آرمی چیف سے ملاقات کی درخواست کی تھی، قائد حزب اختلاف کی تقریر میرے دل کی ترجمانی ہے، جمہوریت پر یوٹرن نہیں لے سکتا۔

 قومی اسمبلی اجلاس میں وزیراعظم نوازشریف نے اپنی پوزیشن واضح کر دی، وزیراعظم نے کہا کہ جمہوریت کی خاطر دس حکومتیں قربان کرسکتا ہوں،  لیکن اپنے نظریئے اور اصول کو قربان نہیں کرسکتا، جمہوریت پر یوٹرن نہیں لے سکتا ساٹ نوازشریف نےکہا کہ دھرنے میں بیٹھے لوگ کتنے سچے ہیں، عوام اچھی طرح جاتنی ہے۔

وزیراعظم نوازشریف نے کہا کہ  منصب اور حکومتیں آنی جانی ہیں، اس دنیا میں کسی کو ہمیشہ کے لئے حکومتیں نہیں ملیں۔

قائدحزب اختلاف کے نظریات کو سراہتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ خورشید شاہ کی تقریر میرے دل کی ترجمانی ہے، بے نظیر بھٹوکے ساتھ ملکر جمہوریت کیلئے جدوجہد کی۔

انھوں نے کہا کہ اگر گزشتہ روز ان کی آرمی چیف سے ملاقات نہ بھی ہوئی ہوتی تو انہیں اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرنا تھا کیونکہ آرٹیکل 245 کے مطابق ریڈ زون کا تحفظ پاک فوج کی ذمہ داری ہے۔  اس سلسلے میں آئی ایس پی آر کی جانب سے بیان بھی جاری کیا گیا تھا کہ ریڈ زون میں واقع تمام عمارتوں کی ذمہ داری  فوج کی ہے۔

گزشتہ روز وہ بذات خود وزیر داخلہ کے ساتھ بیٹھے تھے کہ انہیں آرمی چیف کی جانب سے فون کال آئی جس میں کہا گیا کہ طاہر القادری اور عمران خان نے ان سے ملاقات کی درخواست کی ہے ، وہ اسی صورت میں ان سے ملیں گے جب وزیر اعظم اجازت دیں گے۔

ایک نئی سیاسی بحث کا آغاز ہوگیا، کیا طاہرالقادری اور عمران خان کو منانے کیلئے وزیراعظم نے آرمی چیف سے ثالثی کی درخواست کی یا قادری اور عمران نے آرمی چیف سے ملاقات کی خواہش کا اظہارکیا۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں