The news is by your side.

Advertisement

آرٹیکل 245کے نفاذ کے خلاف اپوزیشن کا سینیٹ اجلاس سے واک آؤٹ

اسلام آباد:اسلام آباد میں  فوج کی طلبی کا معاملہ سینیٹ میں گرم رہا، آرٹیکل دو سو پینتالیس کے نفاذ پر اپوزیشن ارکان اجلاس سے واک آؤٹ کر گئے۔

آرٹیکل دوسو پینتالیس کےمعاملے پر متوالے اور جیالے آمنے سامنے آگئے، سینیٹ اجلاس میں گرما گرم بحث میں پیپلزپارٹی کے رہنما رضا ربانی نے کہاکہ اسلام آباد کے حالات وانا اور فاٹا سے بھی خراب ہیں؟ اگر اہم تنصیبات کی حفاظت مقصود تھی تو ایک سو اکتیس اے سے بھی کام  لیا جاسکتا تھا، جس سے عوام کے بنیادی حقوق معطل نہیں ہوتے، حکومت کا پاکستان تحفظ بل اور انسداد دہشتگردی کے قانون ہوتے ہوئے دوسو پپینتالیس کو ناٖفذ کرنا درست نہیں ۔

رضا ربانی نے کہا کہ وزیراعظم کو واضح کرچکے ہیں، دوسوپینتالیس کا جواز نہیں بنتا، بھٹو دور میں نفاذ کے بھیانک نتائج نکلے، اس غلطی کو بعد میں تسلیم کرلیا تھا۔

وفاقی وزیر عبدالقادر بلوچ نے دفاعی دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ضمانت دیتا ہوں آرٹیکل کا نفاذ لانگ مارچ پر ہلہ بولنے کےلئے نہیں کیا، آئینی کور کے لئے سول انتظامیہ کو فوج کی مدد دینے کےلئے دوسوپینتالیس استعمال کیا ہے، عبدالقادر بلوچ نےکہا کوئی پارلیمنٹ پر قبضےکی بات کرے تو خاموش نہیں رہ سکتے۔ مسلح افواج پر لازم ہے کہ وہ قومی تنصیبات کی حفاظت کرے، اپوزیشن بتائے کہ دوسوپینتالیس سے کس کے حقوق معطل ہوئے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں