site
stats
اہم ترین

آرٹیکل6کیس کراچی منتقل کیا جائے،وکیل پرویز مشرف

اسلام آباد: پرویز مشرف کے وکیل فروغ نسیم نےلانگ مارچ کے پیش نظر آرٹیکل چھ کیس کراچی منتقل کرنےکی استدعا کردی، ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے پر جرح مکمل ہونے پر سماعت کل تک ملتوی کردی گئی۔

آرٹیکل چھ کیس کی سماعت جسٹس فیصل عرب کی تین رکنی بینچ نے کی، ،سماعت شروع ہوئی تو مشرف کے وکلا نے ڈپٹی ڈائریکٹرایف آئی اے خالد رسول پرجرح کا آغاز کیا، فروغ نسیم نے پوچھا مقدمہ ایف آئی اے کے کس سرکل یا تھانے میں درج ہوا، ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے نے جواب دیا اُنھیں نہیں معلوم۔

اس موقع پر پراسیکیوٹر اکرم شیخ نے کہا یہ شکایت ہے کوئی فوجداری مقدمہ نہیں، فرو غ نسیم نے کہا کہ خالد رسول نے شکایت درج ہونے کے چھ دن بعد دستاویزات اکھٹی کیں جبکہ تحقیقات مکمل ہونے پر گواہ پیشرفت نہیں دکھا سکتے۔

دوران جرح خالد رسول نے کہا کہ انھیں سربراہ انکوائری کمیٹی سے زبانی ہدایات ملیں، جن کا روزنامچے پر اندارج نہیں کیا، خالد رسول پر جرح مکمل ہونے پر فروخ نسیم نے استدعا کی کہ لانگ مارچ کے پیش نظر چودہ اگست سے پہلے اسلام آباد میں حالات معمول کے مطابق نہیں ہونگے۔

سماعت سولہ اگست کو رکھی جائے یا کراچی منتقل کی جائے، جس پرعدالت نے یہ کہتے ہوئے سماعت ملتوی کردی کہ آپ کی استدعا پرکل غور ہوگا اور کل تفتیشی ٹیم کے رکن مقصود الحسن سے جرح کی جائیگی۔

قبل ازین استغاثہ کے گواہ نے وکیل دفاع کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ انہوں جاری کردہ نوٹیفیکیشن میں سونپی گئی ذمہ داریوں کے مطابق کام کیا ان کے ذمے دستاویزات جمع کرنا تھا، تفتیش کرنا نہیں یہ درست ہے کہ انہوں نے اپنے دستخطوں کے نیچے اپنا عہدہ تفتیشی افسر نہیں لکھا ہے ۔

یہ غلط ہے کہ انہوں نے اپنے کام کے دوران ذہن استعمال نہیں کیا انہوں نے جو کیا اپنی ٹیم کے سربراہ کے حکم پر کیا انہیں نہیں معلوم کہ کیا جنرل مشرف کے دستخط بطور صدر اور بطورچیف آف آرمی سٹاف مختلف تھے یا نہیں تاہم تقریر کے متن میں کہا گیا کہ ایمرجنسی کا نفاذ بطور چیف آف آرمی سٹاف کیا۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top