site
stats
اہم ترین

اب بات برطرفی پر نہیں، پھانسی پرختم ہوگی، طاہرالقادری

اسلام آباد :  ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا کہ اللہ تعلیٰ نے ہماری پکار سن لی ہے ۔کل اللہ سے شہادت کی التجاء کی تھی ۔

اسلام آباد میں انقلاب مارچ کے شرکاء سے خطاب میں پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہرالقادری کا کہنا تھا کہ تحقیقاتی ٹریبیونل نے قاتلوں کے چہرے سے پردہ ہٹا دیا،  ٹریبیونل کی رپورٹ کے مطابق شہباز شریف کو زمہ دار ٹھرایا ہے۔ حکومت نے ٹریبوبل کی رپورٹ کو بھی چھپا کر رکھا۔

ان کا کہنا تھا کہ سانحہ ماڈل ٹاون وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب کی مشاورت کے بغیر نہیں ہوسکتا ، نواز شریف اب آپ بھی نہیں بچ سکتے ہیں،  اب بات برطرفی پر نہیں پھانسی پر ختم ہوگی۔

طاہرالقادری نے کہا کہ غریبوں کی پکار سننے والا کوئی نہیں ہے،کوئی مظلوم کی آواز سننے کو تیار نہیں ہے ، ایسے میں اگر میں ان کے لئے نہ نکلوں تو کیا کروں ؟،حکمران بیرونِ ملک جا کر علاج کرواتے ہیں اور غریب کو ایک سر درد کی گولی میعسر نہیں ہے، ایسے میں انصاف اور انقلاب کے لئے نہ نکلیں تو کیا کریں ، آئین اور قانون کہاں ہے؟

انہوں نے جمہوریت کے حوالے سے کہا کہ لوگ بھوکے پیاسے ہیں حکمران عیاشی کررہے ہیں کیا یہ جمہوریت ہے ، اگر یہ جمہوریت ہے تو ایسی جمہوریت پرلعانت ہے،جمہوریت وہ ہوتی ہے جس میں لوگوں کو خوشحالی ملے ، غریب کے چولہ جلے ، کوئی شہری اپنے حق سے محروم نہ رہے، چند لوگ ایوانوں میں بیٹھ کر جمہوریت کا رونا روتے ہیں۔ ہم ایسی جموہریت کو نہیں مانتے جس میں غریب بھوکا رہے۔

طاہرالقادری کا کہنا تھا کہ ہماری ڈیڈ لائن میں 23 گھنٹے باقی رہ گئے ہیں، سانحہ ماڈل ٹاﺅن کی ایف آئی آر 21 نامزد افراد کے خلاف درج کی جائے۔ طاہر القادری نے کارکنوں کو ہدایت کی کہ وہ ڈیڈ لائن ختم ہونے سے پہلے کفن منگوا لیں، مجھے رونے والوں کے آنسو نہیں، ان کے خون کے قطرے چاہئیں، خدا کیلئے گھروں سے نکل آﺅ۔

طاپرالقادری نے پولیس کو مخاطب کر کے کہا کہ پولیس والوں میں لئے بھی لڑرہا ہوں، تمیں خدا اور رسولﷺ کا واسطہ ان غریب ، بھوکے اور مجبور عوام پر گولی مت چلانا اگر گولی چلانے کا دل ہو تو پہلے مجھ پر گولی چلانا ۔ میں نے زندگی میں کبھی بلٹ پروف جیکٹ نہیں پہنی جس معاشرے میرے رسول ﷺ اُمت بھوکی ہو ، اس معاشرے میں زندہ رہنے کا دل نہیں رہا، انہوں نے کہا کہ خدا کی قسم جینے نہیں چاہتا، اب تخت ہوگا یہ تختہ ،فتح ہوگی یہ شہادت ہوگی۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top