The news is by your side.

Advertisement

اسلام آباد: انقلاب،آزادی مارچ کے شرکاء اور پولیس پھر آمنےسامنے

اسلام آباد: اسلام آباد میں صبح ہی صبح تیز بارش نے دھرناکرنے والوں کا جوش بڑھا دیا، ریڈ زون میں واقع پاک سیکریٹریٹ میں آج  صبح ہھر دھرنوں کے شرکاء نے  وزیراعظم ہاؤس کی طرف پیش قدمی شروع کردی ، جس پر انہیں پولیس کی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔

کارکنوں اور پولیس کے درمیان دوبارہ جھڑپوں کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے، جس میں متعدد کارکن زخمی ہوئے ہیں، زخمی ہونے والے کارکنوں کو قریبی ہسپتال منتقل کیا گیا ہے، ریڈ زون میں پولیس کی بھاری نفری تعینات ہیں اور علاقے میں کشیدگی پیدا ہوگئی ہے۔

پولیس کی انقلاب اور آزادی مارچ کے شرکاء پر وحشیانہ شیلنگ سے ریڈزون میدان جنگ گیا، پولیس اور مظاہرین کے درمیان آنکھ مچولی کا سلسلہ جاری رہا۔
پولیس کی جانب سے وقفے وقفے سے آنسو گیس کی شیلنگ کی جارہی ہے تاہم بارش کے باعث شیلنگ اثر نہیں کررہی ۔

مظاہرین کو منتشر کرنے اور روکنے کیلئے ربڑ کی گولیا فائر کی جاری ہیں جبکہ پتھراؤں اور لاٹھی چارچ بھی کیا جارہا ہےجس کے باعث متعدد کارکنان زحمی ہے ، جن کو اپنی مدد آپ کے تحت امداد دی جارہی ہے۔ دھرنوں میں خواتین ، بچے اور بوڑھے بھی شامل ہے۔

آزادی اور انقلاب مارچ کے مشتعل مظاہرین نے پاک سیکریٹریٹ کا گیٹ توڑ دیا ہے جبکہ دوسری جانب مظاہرین نے پی ٹی وی چوک پر کنٹینر کو بھی آگ لگا دی ہے۔ دھرنے کے شرکاء کی جانب سے رکاوٹیں ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں ۔

قاضی فیض السلام نے اے آر وائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا ہے کہ مظاہرین پاک سیکٹریریٹ کے اندر داخل ہوگئے ہیں ،حکومت کیکئے اب چند گھنٹے باقی باقی رہ گئے ہیں۔

دوسری جانب مظاہرین کے حملے میں ڈی آئی جی اور ایس ایس پی اسلام آباد عصمت اللہ جونیجو بھی زخمی ہوگئے ہیں۔

دوسری جانب ایس ایس پی اسلام آباد نے مظاہرین اور دھرنے کے شرکا کو خبردار کرتے ہوئے اعلان کیا ہے ہم ریڈ لائنز کی حفاظت کریں گے، مظاہرین یہاں تک نہ آئیں، تاہم مظاہرین پولیس اور ایف سی کو  دھکیلتے  ہوئے  پی ٹی وی چوک پہنچ گئے ہیں، مظاہرین کا کہنا ہے کہ انہیں وزیراعظم ہاؤس جانا ہے۔

واضح رہے کہ ہفتے کی رات سے ریڈ زون میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں اور اس میں اب تک 4 افراد جاں بحق جبکہ 500 سے زائد زخمی ہوچکے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں