site
stats
اہم ترین

اسٹیبلشمنٹ اورعدلیہ کا سیاسی بحران سے دور رہنا خوش آئند ہے، سراج الحق

لاہور: جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے سابق صدر آصف علی زرداری سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قابلِ اطمینان بات یہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اور سپریم کورٹ نے خود کو موجودہ سیاسی بحران سے دور رکھا ہے۔

جماعت اسلامی کے صدر دفتر المنصورہ میں ہونے والی ایک گھنٹہ طویل ملاقات میں ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال پرتبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات میں سابق صدر کے ساتھ سابق وزیرِ داخلہ رحمان ملک اور قائد حزبِ اختلاف خورشید شاہ بھی موجود تھے جبکہ جماعت اسلامی کی جانب سے فرید پراچہ اور لیاقت بلوچ بھی موجود تھے۔

سراج الحق کا کہنا تھا کہ ملک کا دارالخلافہ اسلام آباد اس وقت دھرنوں کی زد میں ہے اور ہر وقت وہاں نعرے بازی ہوتی ہے جس کے باعث دن میں ایوان کی کاروائی کرنا بھی مشکل ہے اور رات میں ارکانِ اسمبلی سو بھی نہیں پاتے۔ ملک کے اٹھارہ کروڑعوام بھی ملک کے سیاسی مستقبل کے بارے میں فکرمند ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ فریقین کو اس انتہا پر کہ جہاں وہ آچکے ہیں وہاں سے واپسی کا باعزت راستہ دیا جائے، اس سلسلے میں سابق صدر نے چار رکنی وفد بھی تشکیل دیا ہے جو بحران کے خاتمے تک جماعت اسلامی سے رابطے میں رہے گا۔ وفد میں خورشید شاہ، رحمان ملک، رضا ربانی اور اعتزاز احسن شامل ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ یہ بات خوش آئند ہے کہ دونوں فریق مذاکرات کی میز پر آگئے ہیں اور دونوں ہی جانب سے تلخی میں کمی آرہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ تحریک ِ انصاف اپنے استعفے سیکریٹری اسمبلی کے پاس جمع کراچکی ہے لیکن ہم نے اسپیکر سے اپیل کی ہے کہ وہ پی ٹی آئی کے ارکان ِ اسمبلی کے استعفے منظور نہ کرے اور ساتھ ہی ساتھ ہم نے عمران خان کوبھی مشورہ دیا ہے کہ فیصلے کرنے میں جلدی نہ کریں۔

سراج الحق نے اس امر پر اطمینان کا اظہارکیا کہ اسٹیبلشمنٹ اور سپریم کورٹ نے اس بحران خود کو دور رکھا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سیاسی قوتوں کے جتنے بھی خیرخواہ ہیں وہ سب ہی دونوں فریقین کو مذاکرات کے ذریعے معاملے کا پرامن حل نکالنا چاہئے ، اس وقت جو بھی قومی مفاد کے لئے اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹے گا قوم اسے عزت کی نگاہ سے دیکھے گی۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top