اقوام متحدہ کا پلیٹ فارم مظلوموں کی داد رسی کے لیے استعمال ہونا چاہیے، آسٹرین وزیر خارجہ -
The news is by your side.

Advertisement

اقوام متحدہ کا پلیٹ فارم مظلوموں کی داد رسی کے لیے استعمال ہونا چاہیے، آسٹرین وزیر خارجہ

کرین کینیسل کا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 73 ویں اجلاس سے عربی میں خطاب

نیویارک : آسٹریا کی وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے عربی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اقوام کے پلیٹ فارم کو ستم رسیدہ لوگوں کی داد رسی کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔

تفصیلات کے مطابق یورپی ملک آسٹریا کی وزیر خارجہ کرین کینیسل نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 73 ویں اجلاس کے دوران اپنے تقریر کا آغاز عربی زبان سے کرتے ہوئے بتایا کہ ’میں نے آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں واقع اقوام متحدہ کے دفتر اور بیروت میں عربی زبان سیکھی ہے‘۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ وزیر خارجہ کرین کینیسل نے عربی زبان میں تقریر کرنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ ’اقوام متحدہ کی چھ دفتری زبانوں میں ایک عربی ہے، یہ بات باعث بنی کہ میں نے اپنے خطاب کا آغاز قومی زبان کے بجائے فصیح و بلیغ عربی زبان میں کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ عربی زبان انتہائی شریں اور عرب کی قدیم تہذیب کا حصّہ ہے، میں نے لبنان میں خانہ جنگی کے دوران عربی زبان کے ذریعے شہریوں سے رابطہ قائم کیا اور عربی جاننے کی وجہ سے ان کے زندگی گزارنے راز جانیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ آسٹرین وزیر خارجہ جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران 20 منٹ تک عربی میں خطاب کرتی رہیں۔

کرین کینیسل نے اپنے خطاب میں کہا کہ عراقی دارالحکومت بغداد سے شامی دارالحکومت دمشق تک اہسے افراد موجود ہیں جو کسمپرسی کے عالم میں زندگیاں گزار رہے ہیں، سب کو ان کا احترام کرنا چاہیئے۔

آسٹرین وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا یہ اجلاس پیلٹ فارم ہے کہ ہم بیرونی دنیا باالخصوص مشرق وسطیٰ کے مسائل حل کرنے کے لیے استعمال کریں۔

کرین کینیسل نے خطاب کے دوران جرمن شاعر کے اشعار  کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ’دنیا کی مظلوم قوموں کی داد رسی کرنے کا یہی وقت ہے‘۔

عرب میڈیا کا کہنا تھا کہ کرین کینیسل نے اپنی تقریر کو مکمل کرنے کےلیے فرانسیسی اور ہسپانوی زبانوں کا استعمال کیا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں