The news is by your side.

Advertisement

الطاف حسین ایم کیوایم سےعلیحدہ ہونے کے فیصلے پرقائم

کراچی: ایم کیوایم کے قائد الطاف حسین نے کہا ہے کہ کچھ لوگ کہتے ہیں ایم کیوایم اچھی ہے ، لیکن مائنس الطاف حسین کے  ساتھ ، آصف زرداری پر بری وقت آیا تو میں نے ساتھ دیا ۔

نائن زیروپرکارکنوں سے ٹیلی فونک خطاب میں الطاف حسین کاکہنا تھاکل حیدرآباد یونیورسٹی کےافتتاح کے بعد علیحدہ ہوجاؤں گا۔ الطاف حسین کاکہناتھا کہ آصف زرداری پر جب برا وقت آیا تو پیپلزپارٹی کی قیادت چھپ گئی ،  برے وقت میں صرف میں نے ان کا ساتھ دیا جس کاصلہ امن کمیٹی بناکر دیاگیا۔

 انہوں نے کہاکہ ذوالفقارمرزا نے امن کمیٹی کو اپنے بچے قرار دیا، مہاجروں کو بسوں سے اتار کر لیاری  لے جایاگیااور ان پر تشدد کیاگیا۔

الطاف حسین کا کہنا تھا کہ ذوالفقار بھٹو کے دور میں 10 سال کے لیے نافذ ہونے والا کوٹہ سسٹم آج تک جاری ہے لیکن ہم نے پیپلزپارٹی کے خلاف کوئی مہم نہیں چلائی جب کہ پی پی والوں نے ہمارے کارکنوں پر شدید تشدد کرکے انہیں قتل کیا، سندھ میں مہاجروں پر ہر جگہ تعلیم اور ملازمت کے لیے دروازے بند کردیئے گئے۔

انہوں نے کہا کہ جب میں نے کراچی میں طالبانائزیشن کی بات تو میری مخالفت کی گئی، وزیراعلیٰ سندھ اور ان کے وزرا نے میری باتوں کو رد کردیا۔

انہوں نے کہاکہ کراچی میں آپریشن کے نام پر کارکنوں کو ماورائے عدالت قتل کیا جا رہا ہے۔ متحدہ کے قائد نے سابقہ ادوار میں پیش آنے والے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ ماضی میں مجھے خریدنے کی کوشش کی گئی ، مگر میں نے انکار کر دیا۔

الطاف حسین نے کہا کہ کارکنوں کو ہمیشہ حب الوطنی کا درس دیا لیکن اگر اسی طرح لاشیں گرتی رہیں تو کارکنوں کا دماغ بھی گھوم سکتا ہے، ایم کیوایم کے قائد نے کہا کہ کراچی آپریشن میں ماورائے عدالت قتل ہو رہے ہیں، جن پر الزام ہے انہیں پکڑیں لیکن مارنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

الطاف حسین نے کہا سہیل احمد قتل ہو گیا، شہدا قبرستان بن گیا لیکن ایم کیو ایم کو ختم نہیں کیا جا سکا۔ ٹرائیکا بنا ہوا ہے کہ مال بناؤ اور متحدہ کے کارکنوں کو ٹھکانہ لگاؤ، الطاف حسین نے کہا کہ ان کی جدوجہد وڈیروں اور جاگیرداروں کے خلاف ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں