site
stats
اہم ترین

الطاف حسین مقدمہ، حکومت کا برطانیہ سے رابطے کا فیصلہ

کراچی: ایم کیوایم کے قائد الطاف حسین کے خلاف رینجرز کی جانب سے انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمے کے اندراج کے بعد حکومت نے وزارت داخلہ کے ذریعے برطانیہ سے رابطہ کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

ذرائع کے مطابق وزارت داخلہ حکومت برطانیہ سے رابطہ کرے گی، حکومتی ذرائع کے مطابق اسکاٹ لینڈ یارڈ کو ایم کیوایم کے قائد الطاف حسین کیجانب سے رینجرز کودھمکیوں کے ثبوت دیئے جائینگے۔

ذرائع کا کہنا ہے وزارتِ داخلہ کو الطاف حسین کیخلاف ایف آئی آر کی کاپی موصول ہوگئی ہے، جو رینجرز کے کرنل طاہر کی مدعیت میں درج کی گئی ہے۔

وزارتِ داخلہ نے الطاف حسین کی حوالگی سے متعلق تین نکات پر غور شروع کر دیا ہے، ذرائع کے مطابق پہلے مرحلے میں انٹر پول کےذریعے الطاف حسین کیخلاف کارروائی پر غور کیا جائے گا۔ دوسرے مرحلے میں وزارت خارجہ کے ذریعے مجرمان کی حوالگی سے متعلق معاہدے کے تحت الطاف حسین کی واپسی زیرغور آئیگی۔

تیسرے مرحلے میں الطاف حسین کیخلاف شواہد اسکاٹ لینڈیارڈ کو پیش کرنے پرغور کیا جارہا ہے، ایم کیوایم کے وکلاء بھی مقدمے کا جائزہ لینے میں مصروف ہیں۔

الطاف حسین کورینجرز کےخلاف سخت زبان مہنگی پڑگئی، الطاف حسین پر رینجرز کو دھمکیاں دینے کا مقدمہ درج کرادیا گیا، ایم کیوایم کےقائد پررینجرز کے کرنل طاہر کی مدعیت میں مقدمہ درج کرایا گیا، یہ وہیں کرنل طاہر ہے جنہوں نے عامرخان کو گرفتار اور نائن زیرو سے اسلحےاور مطلوب افراد کی موجودگی پر بریفنگ دی تھی ۔

الطاف حسین کے خلاف مقدمے میں رینجرز کو دھمکیاں اوردہشتگردی کی دفعات شامل کی گئی ہیں، فوج اور رینجرز کے خلاف سخت زبان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے وزیرِداخلہ چوہدری نثار نے بھی کہا تھا کہ جو زبان استعمال کی جارہی ہے، وہ ناقابل برداشت کی حدوں کوچھو رہی ہے۔

ایم کیوایم کےقائد پرانیس سوبانوے کےبعد یہ پہلا مقدمہ ہے جبکہ این آراو کے بعد بھی پہلا مقدمہ درج کیا گیا ہے، ماضی میں الطاف حسین کے خلاف بہترمقدمات درج تھے۔

واضح  رہے کہ گذشتہ ہفتے رینجرز نے کراچی میں ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو پر چھاپہ مارا تھا، رینجرز حکام نے ایم کیو ایم کے دفتر پر چھاپے کے دوران قتل کے جرم میں سزا یافتہ مجرم سمیت متعدد افراد کو گرفتار کیا تھا اور ناجائز اسلحہ بھی اپنے قبضے میں لینے کا دعویٰ کیا تھا

حراست میں لیے جانے والوں میں ایم کیو ایم کے رہنما عامر خان کے علاوہ صحافی ولی خان بابر کے قتل کے جرم میں سزائے موت پانے والا مجرم فیصل موٹا بھی شامل تھا، رینجرز کی اس کارروائی پر ایم کیو ایم کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا تھا، اور ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین سمیت دیگر رہنماؤں نے اس کی شدید مذمت کی تھی۔

رینجرز کے کرنل طاہر کی جانب سے دائر کی گئی درخواست میں کہا گیا ہے کہ ایک پروگرام میں الطاف حسین نے کہا تھا کہ نائن زیرو پر جنھوں نے ریڈ کیا وہ ’تھے‘ ہو جائیں گے۔

دوسری جانب الطاف حسین کے خلاف مقدمے پر قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ سرکاری اداروں کودھمکیاں دینے کی سزا بہت سخت ہے۔

متحدہ قومی موومنٹ کے قائد پر رینجرز کو دھمکیاں دینے  کے مقدمہ کے حوالے سے ماہر قانون ایس ایم ظفر نے کہا کہ دھمکیوں کی سزا بہت زیادہ ہوسکتی ہے۔

ماہر قانون زاہد بخاری کا کہنا تھا کہ کسی سرکاری ادارے کو دھمکیاں دینا دہشتگردی کےزمرے میں آتا ہے، تجزیہ کار فواد چوہدری نے کہا کہ الطاف حسین پر برطانیہ میں بھی مقدمہ چل سکتاہے، این آر او کے تحت مقدمات کے خاتمے کے بعد الطاف حسین کیخلاف یہ پہلا مقدمہ ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top