The news is by your side.

Advertisement

الطاف حسین نے تادم مرگ بھوک ہڑتال کا فیصلہ کرلیا

لندن / کراچی : متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے تادم مرگ بھوک ہڑتال پر بیٹھنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ اپنے ایک بیان میں الطاف حسین نے کہاکہ میں نے قوم سے وعدہ کیاتھا کہ میں ظالموں کے آگے سرنہیں جھکاؤں گا، اپنی جان دے دوں گا مگر مہاجروں کے ساتھ ساتھ پاکستان کے تمام مظلوم ومحروم عوام کے حقوق اور مفادات کا سودا ہرگزہرگز نہیں کروں گا۔

تادم مرگ بھوک ہڑتال سے اپنی جان دیکر میں اپنا یہ وعدہ پوراکرنے جارہاہوں۔ انہوں نے کہاکہ میں یہ قدم اس لئے اٹھانے پر مجبور ہوں کیونکہ وفاقی وصوبائی حکومتیں ، فوج ، رینجرز اورپولیس کالے قوانین کا سہارا لیکر مہاجروں کی معاشی اور جسمانی نسل کشی میں مصروف ہیں ۔

آج پاکستان کے قیام کو 67 سال گزرجانے کے باوجود مہاجروں کو برابر کا پاکستانی شہری نہیں سمجھا جاتا۔ برسہابرس سے جاری مہاجروں کے قتل عام میں ہزارہامہاجر شہید کیے جاچکے ہیں جن میں پاکستان کے پہلے وزیراعظم خان لیاقت علی خان بھی شامل ہیں مگر کسی ایک مہاجر کے قاتل کوبھی گرفتارنہیں کیاگیا۔ ان شہداء میں میرے بڑے بھائی 70 سالہ ناصر حسین اور 28 سالہ بھتیجے عارف حسین بھی شامل ہیں جن کا ایم کیوایم سے کوئی تعلق بھی نہیں تھا۔ ان کے قاتلوں کو بھی آج تک گرفتارنہیں کیاگیا۔

الطاف حسین نے کہاکہ بعض سیاسی تجزیہ نگار، کالم نویس، صحافی اور اینکرپرسنز ایم کیوایم پر بہتان تراشی تو کرتے ہیں لیکن عصبیت اور سیاسی مخالفت سے باہر آکر کبھی ایم کیوایم کی جائز شکایات پر غور نہیں کرتے ۔ الطاف حسین نے پاکستانی میڈیا کے تمام اینکرپرسنز ، اہل قلم ودانش ، صحافیوں ، کالم نگاروں اور سیاسی تجزیہ نگاروں سے کہاکہ وہ ایم کیوایم پر الزامات لگاتے وقت اس سوال کا جواب بھی دیں کہ 70ء، 80ء اور 90ء کی دہائیوں میں ہونے والے مہاجروں کے قتل عام کے درجنوں واقعات کے ذمہ دار کون تھے اورانہیں آج تک کیوں گرفتارنہیں کیاگیا؟

میرا سوال ہے کہ آخر اس قتل عام کے کتنے مجرموں کے خلاف آپریشن کیاگیا اور کتنے افراد کو گرفتارکرکے سزا دی گئی ؟الطاف حسین نے کہاکہ 30، ستمبر1988ء کو گاڑیوں میں سوار مسلح دہشت گردوں نے حیدرآباد میں داخل ہوکر وہاں روزمرہ کی سرگرمیوں میں مصروف بے گناہ ، نہتے اور پرامن مہاجروں پراندھادھند گولیاں برسائیں ، نصف گھنٹہ تک یہ قتل عام جاری رہا ، فوج ، رینجرز اور پولیس کوئی ان مہاجروں کی مدد کو نہ آیا اورصرف آدھے گھنٹے میں سینکڑوں مہاجروں کو موت کے گھاٹ اتاردیا گیا ۔

میں سوال کرتا ہوں کہ اس سانحہ کے ذمہ دار دہشت گردوں کی گرفتاری کیلئے آج تک کوئی آپریشن کیوں نہیں کیاگیا؟ الطاف حسین نے کہاکہ کراچی میں امن کی سب سے بڑی داعی ایم کیوایم ہے ، کراچی میں سب سے پہلے آپریشن کا مطالبہ ایم کیوایم ہی نے کیاتھا اور مجرموں ، قاتلوں اوردہشت گردوں کے خلاف ایک بلاامتیاز ، غیرجانبدارانہ اورشفاف آپریشن کامطالبہ کیا تھا۔ اس آپریشن سے پہلے کراچی بدامنی کیس کی سماعت میں بھی سپریم کورٹ کی جانب سے یہ کہاگیاتھا کہ کراچی کی تمام جماعتوں اور گروپوں میں دہشت گرد موجود ہیں لیکن جب آپریشن شروع کیاگیا تو صرف اورصرف ایم کیوایم کو نشانہ بنایا گیا۔

ایک مرتبہ پھر کراچی کے عوام کے ساتھ دھوکہ کیاگیا، انہیں ایک مرتبہ پھر عصبیت اور تعصب کا نشانہ بنایاگیا ، اس آپریشن میں ایم کیوایم کے چارہزار سے زیادہ کارکنان کو گرفتارکیاگیا، ہزارں گھروں پر چھاپے مارے گئے لیکن کسی ایک جگہ مقابلہ نہیں ہوا ،کہیں کوئی مزاحمت نہیں ہوئی ، کوئی گولی نہیں چلی، ہماری بے گناہی اورامن پسندی کا اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہوگا؟ الطاف حسین نے کہاکہ میں سوال کرتاہوں کہ ایم کیوایم کے علاوہ کس سیاسی ومذہبی جماعت کے مرکز پر چھاپہ مارا گیا ؟

کس جماعت کے مرکزی رہنماوٴں کوگرفتارکیا گیا؟ کس سیاسی جماعت کے کارکنوں کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بناکر ماورائے عدالت قتل کیا گیا؟پاکستان کی اور کس جماعت کے سب سے زیادہ کارکنان گرفتاری کے بعد سے اب تک لاپتہ ہیں؟ کس اور جماعت کے بارے میں رینجرز نے اعلان کیا کہ اس کے تمام عہدیداروں کو گرفتارکیاجائے گا؟

الطاف حسین نے کہاکہ پاکستان میں اسٹیبلشمنٹ ، آئین اور قانون سے ماوراء ہے ، یہ بھی انتہائی افسوسناک حقیقت ہے کہ پاکستان میں کوئی بھی سیاسی جماعت ، صحیح معنوں میں جمہوریت پسند نہیں ہے ، سب کی سب بلواسطہ یا بلاواسطہ طورپر اسٹیبلشمنٹ کی ایجنٹ ہیں اور پاکستان میں فرسودہ جاگیردارانہ نظام اور اسٹیٹس کو، کوبرقراررکھنا چاہتی ہیں۔

سپریم کورٹ میں اصغرخان کیس کی تفصیلات ریکارڈ پر موجود ہیں کہ کس کس جماعت نے اسٹیبلشمنٹ سے رقومات وصول کیں جن میں موجود ہ وزیراعظم کے ساتھ ساتھ ملک کی دیگر بڑی بڑی جماعتوں اور ان کے سربراہوں اور سینئر رہنماوٴں کے نام بھی شامل ہیں ۔

انہوں نے کہاکہ موجودہ وزیردفاع خواجہ آصف نے گزشتہ دنوں میڈیا کویہ بیان دیا کہ آئی ایس آئی کے دوسابق سربراہوں نے عمران خان کو استعمال کرکے دھرنا کروایا۔

سرمایہ کاروں سے دھرنے کیلئے رقوم فراہم کیں ، بڑے بڑے لوگوں کو پی ٹی آئی میں شامل کروایا اور میڈیاپر دباؤ ڈال کردھرنے کی کوریج کروائی ۔

الطاف حسین نے کہاکہ میں نے مہاجروں کے خلاف جاری ظلم وناانصافی کو رکوانے اورانہیں پاکستان میں ایک باعزت مقام دلوانے کیلئے اپنی زندگی صرف کردی ہے لیکن میری تمام تر کاوشوں کے باوجود نہ تو مہاجروں کی جسمانی اوراقتصادی نسل کشی رک سکی ہے اورنہ ہی ان کو انصاف مل سکا ہے ۔ ان حالات میں میرے پاس اس کے سواکوئی چارہ نہیں ہے کہ میں تادم مرگ بھوک ہڑتال پر بیٹھ جاؤں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں