site
stats
اہم ترین

الطاف حسین کیخلاف برطانیہ کو کوئی دستاویزات نہیں دیں،چوہدری نثار

اسلام آباد : وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کی جانب سے رینجرزکو دی گئی دھمکی اور الطاف حسین کی تقریرکے حوالے سے برطانوی ہائی کمشنر سے بات کی تھی.انہوں نے کہا کہ ایم کیوایم ایک سیاسی جماعت ہے اسے قائم رہنا چاہیئے،

فلپ بارٹن کو کوئی دستاویز نہیں دی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، چوہدری نثار نے کہا کہ سزائے موت کے قیدی صولت مرزا کی پھانسی مؤخر کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ صدر پاکستان کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان حکومت کی درخواست پر صولت مرزا کی پھانسی موخر کی گئی۔ صولت مرزا کو 19 مارچ کو پھانسی دی جانی تھی لیکن صولت مرزا کے بیان کی تصدیق کیلئے 90 روز کی توسیع دی۔

انہوں نے کہا کہ الطاف حسین کےخلاف برطانوی سفیر فلپ بارٹن کو کسی قسم کی کوئی دستاویزات نہیں دیں،وفاقی وزیرداخلہ کا کہنا تھا کہ میں نے برطانوی سفیرسےپوچھا کہ کیا آپ کا قانون ایسےبیانات کی اجازت دیتاہے؟؟

ان کا کہنا تھا کہ برطانوی سفیر واپسی پر اپنے آئندہ کے لائحہ عمل کے بارے میں بتائیں گے۔ اس موقع پرانہوں نے کہا کہ تمام ممالک سے مجرمان کی حوالگی کے معاہدے منسوخ کردئیے ہیں، چودھری نثار علی خان نے انکشاف کیا کہ کچھ ممالک سے قیدیوں کی حوالگی کے معاہدے کو گزشتہ دور میں غلط استعمال کیا گیا تھا۔

تحقیقات کے بعد پتا چلا کہ ایک نہیں بلکہ چار قیدی برطانیہ سے وطن واپس لائے گئے۔ 2000ء میں چھوڑے جانے والے چاروں افراد کو دوبارہ گرفتار کر لیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ قیدیوں کو رہائی دلوانے میں کوئی مافیا ملوث ہے۔ اور اس مافیا کو قانون کے کٹہرے تک لائیں گے، پھانسی کے دوسرے قیدی شفقت حسین کے بارے میں بات کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے بتایا کہ کسی بیرونی دبائو پر شفقت حسین کی سزا موخر نہیں کی گئی۔

شفقت حسین کے معاملے پر بعض عناصر پاکستان کو بدنام کرنا چاہتے ہیں۔ اس کی پھانسی کی تاخیر میں کوئی اندرونی یا بیرونی دبائو نہیں، ان کا کہنا تھا کہ شفقت حسین کیس کے حقائق تک پہنچنے کیلئے ایک ماہ کی مہلت لی گئی ہے۔ تمام حقائق عدلیہ، میڈیا اور قوم کے سامنے رکھے جائیں گے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top