site
stats
اہم ترین

الیکشن میں دھاندلی ! سابق ایڈیشنل سیکریٹری الیکشن کمیشن تہلکہ خیز انکشافات

عام انتخابات میں دھاندلی کیسےہوئی، سابق ایڈیشنل سیکریٹری الیکشن کمیشن محمد افضل نےبھانڈہ پھوڑدیا۔

اےآروائی نیوزکےپروگرام کھراسچ میں سابق ایڈیشنل سیکریٹری الیکشن کمیشن محمد افضل نےانکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ عام انتخابات میں دھاندلی ہوئی ہے۔ جہاں جہاں کیمرے نصب تھے وہاں دھاندلی نہیں ہوئی جیسے اسلام آباد میں دھاندلی نہیں ہوئی باقی ہر جگہ دھاندلی ہوئی،مجموعی طور پر انتخابات میں الیکشن کمیشن، عدلیہ اور انتظامیہ سب ہی نے دھاندلی کروائی، اور اس میں سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری اور تصدق حسین جیلانی بھی شامل تھے، افتخار چوہدری نےتمام ریٹرننگ افسران تعینات کیےجبکہ یہ کام الیکشن کمیشن کاتھا،چوہدی نثار کو کیسےپتاچلاکہ سیل شدہ ووٹ ناقابل تصدیق ہیں ۔

افضل خان نے بتایا کہ الیکشن2013میں فخروبھائی نےآنکھیں بندرکھیں،انہیں کراچی میں فائرنگ کرکےڈرایاگیا، زرداری نےفخروبھائی سےکہا”آپ نےمایوس کیا، جسٹس ریاض کیانی نے الیکشن 2013کو تباہ کیا ، الیکشن کو تباہ کرنے میں جسٹس ریاض کیانی نے 90 فیصد کردار ادا کیا ۔

انہوں نے بتایا کہ پہلے مجھے شک تھا اب یقین ہے کہ دھاندلی ہوئی ہے،جس سیاسی جماعت کوموقع ملااس نےدھاندلی کی، پینتیس نہیں سیکڑوں پنکچر لگے، انتہائی منظم طریقے سے الیکشن میں دھاندلی کی گئی۔

افضل خان کا کہنا تھا کہ الیکشن ٹریبیونل نے سمجھوتے کررکھے ہیں، پنجاب میں بڑے پیمانے پر ذیادتی کی گئی،دھاندلی کی شکایت والے کیسسز کو جان بوجھ کر لمبا کیا گیا ، عمران خان انتخابی دھاندلی میں سچ کہ رہا ہے، الیکشن 2013 میں عوام کا مینڈیٹ چوری کیا گیا، لوگوں میں دہشت پھیلانے کے لئےسانحہ ماڈل ٹاون کیا گیا۔

افضل خان نے کہا کہ کراچی میں نتائج تبدیل کئے گئے، صرف ایک ہی پارٹی کی طاقت وہاں کام کرتی ہے اور وہی کامیاب ہوئی اور فخرو بھائی نے وہاں پر بھی آنکھیں بند رکھیں اور ان کو ہوائی فائرنگ کر کے ڈرا دیا گیا، پنجاب میں عام انتخابات میں دھاندلی میں جسٹس ریاض کیانی براہ راست ملوث تھے اور 90 فیصد دھاندلی انہوں نے کروائی، ان کی تعیناتی بھی میاں محمد نواز شریف کی ایماءپر کی گئی، جب کہ بلوچستان اور سندھ میں بھی الیکشن کمشنر نے براہ راست مداخلت کی۔

سابق ایڈیشنل سیکریٹری نے کہا کہ ووٹوں کی تصدیق زیادہ سے زیادہ 7 دن میں ہوسکتی ہے لیکن 60 دنوں میں نمٹائے جانے والے کیسوں کو 365 دن میں بھی حل نہیں کیا گیا اور دھاندلی کی شکایت کے کیسز کو جان بوجھ کر لمبا کیا گیا، الیکشن کو 14 ماہ گزر چکے ہیں اگر یہ لوگ ملوث نہ ہوتے تو اب تک حلقے کھولے جاسکتے تھے۔ افضل خان نے کہا کہ میں بھی کسی حد تک قوم کا مجرم ہوں جبکہ دھاندلی میں جو بھی ملوث ہے اس پر آرٹیکل 6 کا مقدمہ چلا کرپھانسی دی جائے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top