امریکا کو ایک پیج پر ہونے کا پیغام دیا گیا: شاہ محمود کی صحافیوں سے گفتگو -
The news is by your side.

Advertisement

امریکا کو ایک پیج پر ہونے کا پیغام دیا گیا: شاہ محمود کی صحافیوں سے گفتگو

 امریکی سیکریٹری مائیکل رچرڈ پومپیو سے دارالحکومت میں ہونے والی اہم ترین ملاقات سے متعلق وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی کی پریس کانفرنس کے بعد انھوں نے صحافیوں کے ساتھ سوالات کے سیشن میں کہا کہ امریکا کو اس ملاقات کے ذریعے پیغام دیا گیا کہ ’ہم سب ایک پیج پر ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ امریکی وفد کے ساتھ ملاقات میں آرمی چیف اور آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل خصوصی طور پر شریک ہوئے، اس مشترکہ نشست سے امریکا کو واضح پیغام گیا کہ ہم سب ایک پیج پر ہیں۔ خیال رہے کہ اس ملاقات میں امریکی جنرل جوزف ڈنفورڈ بھی شریک تھے۔

انھوں نے ایک صحافی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ پاک امریکا تعلقات میں تعطل ٹوٹ گیا ہے یہ اچھی پیش رفت ہے، تاہم چیلنجز کا سامنا اب بھی ہے، ہوسکتا ہے کئی معاملات پر ہماری سوچ مختلف ہو، دوسری طرف ہمارے ایک دوسرے کے ساتھ مفادات بھی وابستہ ہیں۔

پاک امریکا تعلقات میں تعطل ٹوٹ گیا ہے

ایک اور صحافی کے سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ہم نے پہلے ہی فیصلہ کیا تھا کہ امداد روکنے کا معاملہ زیرِ بحث نہیں لایا جائے گا، ہمارا رشتہ لین دین کا نہیں، خود دار قوموں کی سوچ مختلف ہوتی ہے، ہم اصولوں اور مستقبل کے سمت کی بات کرنا چاہتے تھے اس لحاظ سے یہ نشست مفید رہی، یہ تاثر دیا گیا تھا کہ نئی حکومت کے آنے سے قبل امریکا نے ایک قسط روکی، لیکن 300 ملین ڈالر روکنے کا فیصلہ نئی حکومت سے پہلے کا ہے۔

ایک اور سوال پر وزیرِ خارجہ نے سارا زور خواہشات پر ڈالتے ہوئے کہا ’آج کی نشست میں سننے، سمجھنے اور آگے بڑھنے کی خواہش تھی، ہماری خواہش ہے کہ آج امریکا کے ساتھ تعلقات کو پُر امن انداز میں آگے بڑھائیں، سیکریٹری پومپیو سے کہا کہ الزام تراشیوں سے کچھ حاصل نہیں ہوتا، آج کی نشست میں کوئی منفی پہلو دکھائی نہیں دیا۔‘

پہلے ہی فیصلہ کیا تھا کہ امداد روکنے کا معاملہ زیرِ بحث نہیں لایا جائے گا

افغانستان کے ساتھ تعلقات کی نزاکت پر ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پاکستان کے پاس افغانستان سے ڈائیلاگ کے لیے بنیادی ڈھانچا موجود ہے، مغربی سرحد پر چیلنج سے نمٹنے کے لیے بہت سے اقدامات کیے جا چکے، پاک فوج نے بھی بارڈر مینجمنٹ کے لیے اپنا کردار ادا کیا، امریکا سے کہا مغربی جانب (افغانستان) توجہ دینی ہے تو مشرقی جانب (بھارت) سے ہمیں سہولت درکار ہے۔


امریکی وفد نے ڈو مور کا کوئی مطالبہ نہیں کیا، وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی


انھوں نے بتایا کہ بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول پر سیز فائر کی خلاف ورزی ہوتی ہے جس سے معصوم لوگ متاثر ہوتے ہیں، ہم ایل او سی کی صورتِ حال کو نظر انداز نہیں کر سکتے، ہم دیکھیں گے کہ اس کی بہتری کے لیے کون کیا کر سکتا ہے، یہ واضح ہے کہ تالی دو ہاتھوں ہی سے بجتی ہے۔

وزیرِ خارجہ شاہ محمود نے امریکا کے ساتھ اختلافات کے خاتمے کے تاثر کو مسترد کر دیا

ایک سوال کے جواب میں وزیرِ خارجہ نے امریکا کے ساتھ اختلافات کے خاتمے کے تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا ’میں نہیں کہہ سکتا کہ امریکا کے ساتھ ہمارا کسی بھی معاملے پر اختلاف نہیں، امریکا سے بھی کہا تالی دو ہاتھوں سے بجتی ہے، ماحول ساز گار بنائیں۔‘

ایک اور سوال کے جواب میں انھوں نے اس تاثر سے بھی انکار کیا کہ وہ اس ملاقات کے ذریعے کسی چیز کا کریڈٹ لینا چاہتے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ ابھی مستقبل کا لائحۂ عمل بھی طے کرنا ہے جس کے لیے واشنگٹن میں اگلی نشت ہوگی، تاہم انھوں نے حیرت انگیز طور پر وزیرِ اعظم عمران خان اور امریکی وزیرِ خارجہ کی ٹیلی فونک گفتگو کو مثبت قرار دیا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں