The news is by your side.

Advertisement

امریکی عدالت نے مسلمان قیدی کو داڑھی رکھنے کی اجازت دے دی

 

واشنگٹن: امریکی سپریم کورٹ نے متفقہ فیصلہ دیا ہے کہ ارکنساس جیل قیدی کواسکے مذہبی عقائد کے مطابق داڑھی رکھنے سے نہیں روک سکتی۔

داڑھی رکھنے کی درخواست عمرقید کے سزا یافتہ قیدی گریگوری ہالٹ نامی قیدی نے دی تھی جسے عبدالملک محمد کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ انہیں گھریلو تشدد کے الزام میں سزا ہوئی ہے۔
ہالٹ مسلمان ہیں اوروہ چاہتے ہیں کہ وہ آدھے انچ کی داڑھی رکھیں جبکہ جیل انتظامیہ اپنے قوائد کے مطابق 0.25انچ سے زیادہ داڑھی بڑھانے کی اجازت دینے پرتیار نہیں ہے۔

جسٹس سیموئل الیٹو نے مقدمے کا فیصلہ لکھتے ہوئے کہا کہ ’’جیل انتظامیہ کی جانب سے عائد پابند ہالٹ کے مذہبی آزادی کے حق کو مجروع کررہی ہے‘‘۔

انہوں نے مزید لکھا کہ جیل انتطامیہ کی جانب سے عائد پابندی کے بعد قیدی کے پاس دو ہی راستے رہ جاتے ہیں کہ’’یا تووہ اپنے مذہبی عقیدے کو مجروع کرے یا پھر جیل کے قوائد کی خلاف ورزی کا خطرہ مول لے‘‘۔

عدالت نے مقدمے کی سماعت اکتوبرمیں کی تھی۔

امریکہ کی پچاس میں سے چالیس ریاستیں قیدیوں کو مناسب داڑھی رکھنے کی اجازت دیتی ہیں۔ ارکنساس ان دس ریاستوں میں سے ایک ہے جہاں سیکیورٹی خدشات کے سبب قیدیوں کے اس حق پر پابندی ہے۔

نو ججوں نے جیل حکام کے خدشات کو تسلیم کیا کہ قیدی اپنی داڑھی میں ہتھیاریا دیگرممنوعہ اشیاء چھپا سکتے ہیں۔

انہوں نے یہ بھی نوٹ کیا کہ ہالٹ جیسی مختصر داھی میں کوئی بھی ممنوعہ شے چھپانا کس قدر دشوار گزار کام ہے۔

عدالت نے جیل کے قوائد میں بے ضابتگی کی نشاندہی بھی کہ’’سر کی بالوں کی لمبائی کے لئے تاحال کوئی ضابطہ وضع نہیں کیا گیا ہے‘‘۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں