The news is by your side.

Advertisement

امریکی فوجی جوڑے کو جعلی ڈگری پر کورٹ مارشل کا سامنا کرنا پڑا، سابق ملازم

کراچی: ایگزیکٹ جعلی ڈگری کیس کی تحقیقات کے دوران انکشافات کا سلسلہ جاری ہے، ایگزیکٹ کے سابق ملازم کا کہنا ہے کہ جعلی ڈگری نے امریکی فوجی جوڑے کو کورٹ مارشل کے خطرے سے دوچار کیا۔

جعلی ڈگریوں کا دھندہ، ایگزیکٹ کے گلے کا پھندہ بنتا جارہا ہے، ایگزیکٹ جعلی ڈگری اسکینڈل سے جڑا کوئی نہ کوئی انکشاف روز سامنے آرہا ہے۔

ایگزیکٹ کی جعلی ڈگریوں کی تحقیقات کا دائرہ وسیع ہوگیا ہے اور حکومت نے امریکی ایجنسی ایف بی آئی سے رابطہ کرلیا ہے۔

دوسری جانب امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ ایگزیکٹ جعلی ڈگری اسکینڈل پر پاکستان سے رابطے میں ہیں۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز سے گفتگو میں ایگزیکٹ کے سابق ملازم احمد نے انکشاف کیا کہ ایگزیکٹ کی جعلی ڈگریوں سے امریکی فوجی بھی محفوظ نہ رہ سکے۔

دوہزار نو میں عراق میں تعینات امریکی فوجی جوڑے کو محض ایگزیکٹ سے حاصل کردہ جعلی ڈگری کی وجہ سے کورٹ مارشل کے خطرے سے دوچار ہونا پڑا۔

احمد کے مطابق کورٹ مارشل سے بچنے کے لئے جب امریکی فوجی جوڑے نے ڈگری کی تصدیق کے لئے ایگزیکٹ سے رجوع کیا تو ایگزیکٹ کے مینجر نے جوڑے کی کالز بلاک کرنے کا حکم دیا۔

ایگزیکٹ جعلی اسکینڈل نے دیگر ہزاروں امریکی شہریوں کو بھی متاثرکیا، ایگزیکٹ جعلی ڈگری اسکینڈل نے کچھ سال قبل امریکا میں جنم لینے والے جعلی ڈگری اسکینڈل یونیورسٹی ڈگری پروگرام کو بھی پیچھے چھوڑ دیا، جس میں تیس ہزار افراد کو آن لائن جعلی ڈگریاں بیچی گئیں ۔

غیرملکیوں سے جعلی ڈگریوں کے عوض کمائی گئی رقم کو ایگزیکٹ کے دبئی کمپنی کے اکاؤنٹ میں جمع کیا جاتا تھا، جہاں سے یہ رقم سوفٹ وئیرایکسپورٹ کی جعلی دستاویزات کے ذریعے پاکستان منتقل کی جاتی تھی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں