The news is by your side.

Advertisement

انقلاب، آزادی مارچ پارلیمنٹ کے سامنے پہنچ گئے

اسلام آباد: پاکستان عوامی تحریک کا انقلاب مارچ اور پاکستان تحریکِ انصاف کا آزادی مارچ فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوچکا ہے اور مظاہرین ڈاکٹر طاہر القادری کی عوامی پارلیمنٹ اور عمران خان کے فیصلے کے مطابق ریڈ زون میں داخل ہو کر پارلیمنٹ ہاوٗس تک پہنچ چکےہیں۔

مظاہرین نے راستے میں حائل تمام رکاوٹیں جن میں کنٹینر اورخاردار تاریں شامل تھیں انہیں لفٹر کی مدد سے دورکردیااور عومی تحریک اور تحریک انصاف کے قافلے شاہراہ دستور پر آگئے ہیں۔

اسی کوشش کے دوران مظاہرین کی پولیس سے سرینہ چوک کے مقام پر جھڑپ بھی ہوئی اور کنٹینر ہٹانے کے دوران پی ٹی آئی کے چار کارکنان کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات موصول ہوئیں ہیں۔

صورتحال کے پیش ِ نظر ہولی فیملی اور پمز اسپتال سمیت اسلام آباد کے تمام اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کرکے عملے کی چھٹیاں منسوخ کردی گئیں ہیں۔

 

دوسری جانب وزیر اعظم کی زیر صدارت وفاقی حکومت کا ایک اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا جس میں وزیراعظم نے ایک جانب تو استعفیٰ نہ دینے کا فیصلہ کیاتودوسری جانب انہوں نے حکم دیا کہ لانگ مارچ کے شرکاء کے راستے سے تمام رکاوٹیں ہٹا کر انہیں ریڈ زون میں آنے دیا جائے۔

وزیراعظم نوازشریف نے سیکیورٹی عہدے داروں کو مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال سے منع کرتے ہوئے حکم دیا کہ اگر مظاہرین کسی عمارت کو نقصان پہنچائیں تو پھر ان کے خلاف کاروائی کی جائے۔

وزیراعظم نے مزید ہدایات جاری کیں کہ مارچ میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں لہذا شیلنگ اور لاٹھی چارج کے استعمال سے ہرصورت اجتناب کیا جائے۔

ریڈزون میں واقع ڈپلومیٹک انکلیو اور حساس اداروں کی حفاظت کے لئے وفاقی حکومت کی درخواست پر فوج پہلے ہی تعینات کی جاچکی ہے اور ساتھ ہی ساتھ پولیس اوررینجرز اہلکاروں کی بھاری تعداد بھی ریڈ زون سے تعینات کی گئی ہے۔

دوسری جانب حکومت نے فیض آباد کے مقام سے اسلام آباد کے داخلی راستوں کو کنٹینر لگا کر دوبارہ سیل کرنا شروع کردیا ہے تاکہ مزید مظاہرین اسلام آباد میں داخل نہ ہوسکیں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں