The news is by your side.

Advertisement

انقلاب اور آزادی مارچ کے شرکاء نے شاہراہ دستور کا ایک راستہ خالی کردیا

اسلام آباد: سپریم کورٹ کی ہدایت پر انقلاب مارچ کے شرکاء نے شاہراہ دستور کا ایک راستہ آمد ورفت کے لئے خالی کردیا۔

سپریم کورٹ کے احکامات کے بعد شاہراہ دستور سے سپریم کورٹ کی جانب جانے والا راستہ عوامی تحریک کے کارکنان نے پر امن طریقے سے خالی کردیا، سپریم کورٹ کے 5 رکنی لارجر بینچ کی جانب سے منگل تک شاہراہ دستور آمدورفت کے لئے بحال کرنے کی ہدایت پر پولیس نے پاکستان عوامی تحریک کے آرگنائزر سے رابطہ کیا تو کسی مزاحمت کے پی اے ٹی آرگنائزر کی جانب سے دو گاڑیوں کی آمدورفت کا راستہ کارکنان سے خالی کرادیا گیا۔

گزشتہ گیارہ دنوں سے پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کے دھرنے کی وجہ سے شاہراہ دستور مکمل طور پر بند رہا، گزشتہ روز وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے شاہراہ دستور کو مظاہرین سے خالی کرانے کے دوران کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے مقامی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت کی تھی لیکن معاملہ امن و امان سے نمٹ گیا۔

گذشتہ روز سپریم کورٹ نے تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کو شاہراہ دستور خالی کرانے کا حکم دے دیا، عدالت نے کہا تھا کہ منگل کو سپریم کورٹ کے جج شاہراہ دستور سے عدالت آنا چاہیں گے، ممکنہ ماورائے آئین اقدام کے خلاف اور بنیادی حقوق کی تشریح کیلئے دائر درخواست کی چیف جسٹس ناصرالملک کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ نے کی۔

بینچ نے انتظامیہ کو ہدایت کی کہ منگل کی صبح تک شاہراہ دستور کی سڑکیں احتجاج کرنے والوں سے خالی کرائی جائیں، اٹارنی جنرل سلمان اسلم بٹ نے کہا حکومت دونوں جماعتوں کو اسپورٹس کمپلیکس میں جگہ دینے کو تیار ہے، اس صورت میں شہر کی مختلف شاہراہوں پر رکھے گئے کنٹیر بھی ہٹائے جا سکیں گے۔

سپریم کورٹ نےدھرنے کے سبب اضافی اخراجات سے متعلق تفصیلات بھی طلب کرلیں، لارجربینچ نے تجویز دی کہ تعلیمی اداروں میں قیام پذیر پولیس اہلکاروں کو متبادل جگہ فراہم کی جائے۔

گذشتہ روز اسلام آباد ہائیکورٹ میں بھی آزادی اور انقلاب مارچ کے دھرنوں کے خلاف سماعت ہوئی، عدالت نے ڈپٹی کمشنر کو دو ستمبر تک جواب داخل کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے استفسار کیا کہ بچے اسکول اور وکلا عدالتوں تک نہیں جا پا رہے، انتطامیہ نے کیا انتظامات کئے، ڈپٹی کمشنر نے عدالت کو بتایا کہ عمران خان اور طاہر القادری تحریری اجازت پر دھرنے دے رہے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں