The news is by your side.

Advertisement

آئین کا مسودہ کہاں گیا، وفاقی اورصوبائی حکومتوں سے جواب طلب

کراچی : پاکستان کے آئین کا مسودہ لاپتہ ہونے کے حوالے سے سندھ ہائی کورٹ نے اسپیکر قومی اسمبلی، وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے جواب طلب کرلیا ہے۔

پاکستان کی سیاست میں سب سے زیادہ ذکر اِسی آئین کا ہوتا ہے لیکن پاکستان کا یہ قومی اثاثہ گم ہوچکا ہے، سندھ ہائی کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ انیس سو تہتر میں منظور کئے جانے والے مفتقہ آئین کا مسودہ تین سال قبل غائب ہوچکا ہے، جس پر سندھ ہائی کورٹ نے قومی اور صوبائی حکومتوں سے جواب طلب کرلیا ہے۔

درخواست گزار کے مطابق انیس سو تہتر کے آئین کے مسودے کی گمشدگی کی رپورٹ درج نہیں کرائی گئی، آئینِ پاکستان کی گمشدگی پرماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی قومی دستاویز کی نقل کی حفاظت اسمبلی سیکریٹری کی ذمہ داری ہے، آئین کا سودہ گم ہونا ناقابل فہم ہے۔

ظفراللہ خان تہتر کے آئین پر اس وقت کے وزیرِاعظم ذوالفقار علی بھٹو نے دستخط کیے تھے، سنہ تہتر کا آئین بنانے والی کمیٹی کے چیئرمین میں محمود علی قصوری جبکہ اس کے ارکان میں مولانا شاہ احمد نورانی، مفتی محمود، پروفیسرغفوراحمد اور سردار شیر باز خان مزاری شامل تھے، اس کمیٹی نے دن رات محنت کے بعد قوم کو تہتر کا متفقہ آئین دیا تھا۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں