آج شہنشاہ جذبات’محمد علی‘کو گزرے 9 برس بیت گئے -
The news is by your side.

Advertisement

آج شہنشاہ جذبات’محمد علی‘کو گزرے 9 برس بیت گئے

آج معروف اداکار محمد علی کی برسی ہےجنہیں شہنشاہ جذبات کے لقب سے بھی یاد کیا جاتا ہے ۔پاکستان فلم انڈسٹری کے سنہرے دور کی جب بھی تاریخ لکھی جائے گی تو شہنشاہ جذبات محمد علی کا نام سنہرے حروف میں لکھا جائے گا۔ محمد علی ایک بہت بڑے فنکار اور عظیم انسان تھے۔ انہوں نے اداکاری میں اَنمٹ نقوش چھوڑے ہیں۔

محمد علی 19 اپریل 1931ء میں بھارت کے شہررام پور میں پیدا ہوئے۔ چار بہن میں وہ سب سے چھوٹے تھے۔ محمد علی نے 14 سال تک اسکول کی شکل نہ دیکھی وہ صرف مدرسے میں اردو، عربی، فارسی وغیرہ کی تعلیم حاصل کرتے رہے۔

سن1943ء میں اپنے خاندان کے ساتھ ہجرت کر کے ملتان آ گئے۔ ملتان کی گڑمنڈی کی ایک مسجد میں محمد علی اپنے والد کے ساتھ 12 سال رہے، اس مسجد میں ان کے والد خطیب تھے۔

ملتان آنے کے کچھ عرصے بعد سید مرشد علی کی سوچ میں تبدیلی آئی کہ وقت کے ساتھ چلنے کے لیے انگریزی تعلیم ضروری ہے اس لیے انہوں نے 1949 میں محمد علی کو اسلامیہ اسکول ملتان میں داخل کرا دیا۔ ان کا ساتویں کلاس میں داخلہ ہوا اس کے ایک برس بعد ملت ہائی اسکول ملتان میں انہیں نویں کلاس میں داخلہ مل گیا۔

محمد علی کے خاندان کے زیادہ ترلوگ حیدرآباد سندھ میں رہتے تھے اس لیے 1955 ء میں وہ اپنے خاندان کے ساتھ حیدر آباد منتقل ہوگئے اور سٹی کالج حیدرآباد سے انٹر پاس کیا۔

محمد علی کو پائلٹ بننے کا شوق تھا اور وہ پائلٹ بن کر ایئر فورس جوائن کرنا چاہتے تھےلیکن معاشی حالات تنگ تھے ان کے پاس اتنے پیسے نہیں تھے کہ وہ ایبٹ آباد جاکر ٹریننگ حاصل کرسکیں۔

انہیں تعلیم کا سلسلہ جاری رکھنا مشکل نظر آرہا تھا۔ ذریعہ معاش کے لیے انہوں نے کوئی کام کرنے کا سوچا۔ ان کے بڑے بھائی ارشاد علی ریڈیو پاکستان حیدر آباد میں بطورڈرامہ آرٹسٹ کام کر رہے تھے۔ انہوں نے ڈرائریکٹر قیوم صاحب سے محمد علی کا تعارف کرایا۔

محمد علی نے اپنے کیرئر کا آغاز ریڈیو پاکستان حیدرآباد، سندھ سے کیا۔ ان کی بھرپور آواز نے انہیں ایک بہترین ریڈیو صداکار کی حیثیت سے منوایا اور انہیں فلمی دنیا تک پہنچانے میں بھی ان کی آواز نے ہی اہم کردار ادا کیا۔

اس وقت ایک ڈرامے کی صدا کاری کے دس روپے ملا کر تے تھے۔بعد ازاں انہوں نے ریڈیو پاکستان بہاولپور سے بھی پروگرام کیے۔ ان کی آواز سن کر ریڈیو پاکستان کے جرنل ڈرائریکٹر ذوالفقار احمد بخاری المعروف زیڈ اے بخاری صاحب نے انہیں کراچی بلا لیا۔ سونے کو کندن بنانے میں زیڈ۔ اے بخاری مرحوم کا بہت ہاتھ تھا۔ انہوں نے محمد علی کو آواز کے اتارچڑھاؤ، مکالموں کی ادائیگی، جذبات کے اظہار کا انداز بیاں اور مائیکرو فون کے استعمال کے تمام گر سیکھا دیئے۔ زیڈ۔ اے بخاری نے ان کی آواز کی وہ تراش خراش کی کہ صدا کاری میں کوئی ان کا مدمقابل نہ رہا۔

سن 1962میں فلم’چراغ جلتا رہا‘سے فلمی کیرئرکا آغازکیا۔ فلم کا افتتاح کراچی کے نشاط سینما میں مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح نے اپنے ہاتھوں سے کیا۔ فلم زیادہ کامیاب نہ ہو سکی مگر محمد علی کی اداکاری اور مکالمے بولنے کے انداز نے دوسرے فلم سازوں اور ہدایتکاروں کو ضرور متوجہ کر لیا اور جلد ہی ان کا شمار ملک کے معروف فلمی اداکاروں میں کیا جانے لگا۔ پہلی فلم کے بعد محمد علی نے ابتدائی پانچ فلموں میں بطورولن کام کیا۔ محمد علی کو شہرت 1963ء میں عید الاضحی پرریلیز ہونے والی فلم ’شرارت‘سے ملی۔ انہوں نے درجنوں فلموں میں بحیثیت ہیرو کے کام کیا۔ ان کی فلموں کی زیادہ ترہیروئن ان کی اپنی اہلیہ زیبا تھیں نیز ان فلموں میں زيادہ ترگانے جو ان پر فلمائے گئے ان کے گلوکار مہدی حسن تھے ۔انہوں نے 300 فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے۔’علی زیب‘کی جوڑی اتنی کامیاب تھی کہ انہوں تقریباً 75 فلموں میں اکٹھے کام کیا۔


محمد علی نے کبھی بھی سیاست میں حصہ نہیں لیا۔ ان کے ذوالفقار بھٹو کے ساتھ دوستانہ تعلقات تھے۔ 1974ء میں مسلم سربراہی کانفرنس میں شرکت کے لیے آئے ہوئے سلطان قابوس اورشاہ فیصل شہید نے علی زیب ہاؤس میں ہی قیام کیا تھا، اسی دوران فلسطین آزادی کے رہنما یاسر عرفات مرحوم نے بھی محمد علی سے ملنے کی خواہش کی تھی، اور مسقط عمان کے سلطان قابوس نے انھیں غیرسرکاری سفیر کی حیثیت سے تعریفی شیلڈ پیش کی، ایران کے شہنشاہ نے پہلوی ایوارڈ دیا۔ اس طرح عالمی سطح پر محمد علی کو مقبولیت حاصل رہی۔ پاکستان میں ہر سربراہ حکومت سے ان کے اچھے اور قریبی تعلقات قائم رہے۔ بھٹو کی حمایت کرنے پر 1977ء میں جنرل ضیاء الحق کے دور حکومت میں انھیں جیل بھی کاٹنی پڑی۔ تاہم حالات ٹھک ہونے کے بعد جنرل ضیاء ا لحق سے محمد علی کے اچھے اور قریبی تعلقات ہو گئے۔ وہ ضیاء الحق کے ساتھ 1983ء میں بھارت کے دور پر بھی گئے۔ نواز شریف سے ان کے بہت قریبی تعلقات رہے، وہ ان کے ایڈوائز بھی رہے، محمد علی کو اسی طرح ہمیشہ قومی سطح پر اولیت دی جاتی رہی۔

انھوں نے “علی زیب فاؤنڈیشن” کے تحت سر گودھا، فیصل آباد، ساہیوال اور میانوالی میں تھیلسیمیا میں مبتلا بچوں کے علاج اور کفالت کے لیے ہسپتال قائم کیے، جہاں بلا معاوضہ بچوں کا علاج کیا جاتا ہے۔ اس ادارے کے تمام اخراجات وہ اپنے وسائل سے پورے کرتے تھے۔ “علی زیب فاؤنڈیشن” کے علاوہ محمد علی کئی اداروں کے صدر اور فاؤنڈر ممبر رہے۔ ان تمام اموار میں ان کی پیاری بیوی بھی ان کے ہم رکاب رہیں۔ نجی سطح پر بھی علی زیب ضرورت مندوں کی ہر ممکن مدد معاونت کرتے رہتے تھے۔ انھوں نے کئی بیواؤں اور یتیموں کے وظیفے مقرر کر رکھے تھے۔ بہت سے غریبوں کے گھر کے چولہے محمد علی کے امدادی چیک سے جلتے تھے۔ انھوں نے ہمیشہ اپنے ساتھیوں کے بُرے وقت میں کام آتے تھے۔

محمد علی نے 277 فلموں میں کام کیا جن میں 248 اردو، 17 پنجابی، 8 پشتو، 2 ڈبل وریژن انڈین، 1 بنگالی، 28 فلموں میں بطور مہمان اداکار اور ایک ڈاکو منٹری فلم میں کام کیا۔

پاکستانی سینما کے یہ لازوال فنکار 19 مارچ 2006 میں اچانک دل کا دررہ پڑنے پردنیا سے کوچ کرگئے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں