The news is by your side.

Advertisement

آج عیسائیوں کی مقدس رومی سلطنت ختم ہوئی تھی

کراچی (ویب ڈیسک) – قرون وسطیٰ میں یورپ اور بالخصوص مشرقی یورپ کے ایک بڑے خطے پر راج کرنے والی ’’مقدس رومی سلطنت‘‘ جو کہ 800 عیسویں میں نامور بادشاہ شارلیمن کی تاج پوشی سے قائم ہوئی تھی تقریباً ایک ہزار سال تک یورپ کی سیاست میں اہم کردار ادا کرنے کے بعد 1806 میں فرانسیسی شہنشاہ نپولین بونا پارٹ کے ہاتھوں اختتام پذیر ہوئی۔

عیسائیوں کی مقدس قومی سلطنت پوپ لیو سوم کی جانب سے شارلمین کی تاج پوشی کے ساتھ قائم ہوئی اور شارلمین کے انتقال کے بعد فرانسیسی سلطنت تین حصوں میں تقسیم ہوگئی جس کے ایک حصے مشرقی فرانکیا کے بادشاہ خود کو ’’مقدس رومی شہنشاہ‘‘ کہلواتے تھے۔

مقدس رومی سلطنت کا نشان
مقدس رومی سلطنت کا نشان

 

’’مقدس رومی شہنشاہ‘‘ کا باقاعدہ خطاب سب سے پہلے فریڈرک باربروسا نے اپنے لئے منتخب کیا جو 1152ء سے 1190ء تک تخت پر متمکن رہا۔ اسی حکمران نے اپنی مذہبی نظریات کی بنا پر مسلمانوں کے خلاف صلیبی جنگیں شروع کیں تھیں۔

سلطنت کے زیرِاثر رہنے والے قابل ِ ذکرملک آج جرمنی، آسٹریا، پولینڈ، جمہوریہ چیک فرانس، نیدرلینڈ،اٹلی اورسوئٹزرلینڈ کہلاتے ہیں۔

سلطنِ عثمانیہ اور آسٹریا کے درمیان سولہویں صدی سے اٹھارویں صدی جاری رہے والی جنگوں نے مقدس رومی سلطنت کو شدید ترین نقصان پہنچایا، یہاں تک کہ 1683 میں عثمانی فوجیں آسٹریا پر ایک فیصلہ کبن یلغار کرنے کے ارادے سے نکلیں اورآسٹریا کی حامی مقدس رومی سلطنت کے دارالحکومت’’ویانا‘‘ تک پہنچ گئیں تھیں لیکن اس وقت کے پولش حکمران ’’جان سیبوسکی‘‘ کی مداخلت کے باعث عثمانی فوجیں شکست سے دوچار ہوئیں۔

سلطنت 1618ء سے 1648ء تک جاری جنگ تیس سالہ سے شدید متاثر ہوئی اور سلطنت کی تقریبا 30 فیصد آبادی اس جنگ میں کام آگئی۔

سلطنت کا کبھی کوئی باقادہ دارالخلافہ نہیں رہا بلکہ وقت اور حالات کی ضرورت کے تحت مختلف شہرتوں کو دارالخلافہ قرار دیا جاتا رہا جن میں میونخ، پراگ اور ویانا قابل ذکرہیں۔

تقریباً ایک ہزارئیے تک یورپ کی تاریخ میں کلیدی کردار ادا کرنے والی مقدس رومی سلطنت ستروھیں اور اٹھارویں صدی میں ہونے والی یورپ کی عظیم جنگوں کے باعث کمزور پڑنا شروع ہوگئی تھی۔ پرشیا نے سلطنت کے ایک اہم صوبے آسٹریا پر اپنا تسلط قائم کرلیا تھا اور جرمنی میں رومی شہنشاؤں کی قوت کمزور پڑ رہی تھی۔

والٹیئر
والٹیئر

 

مشہورفرانسیسی فلسفی والٹئیر کا کہنا ہے کہ مقدس رومی سلطنت نہ تو کبھی مقدس تھی، نہ ہی رومی اورنہ ہی وہ کبھی باقاعدہ سلطنت تھی۔

بالاخر چھ اگست 1806 کو فرانس کے شہنشاہ اور عظیم فاتح نپولین بونا پارٹ نے ’’مقدس رومی سلطنت‘‘ کا باقاعدہ خاتمہ کردیا۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں