The news is by your side.

Advertisement

آج نواسہ رسولؐ امام حسین کا یومِ ولادت ہے

آج پیغمبرِاسلام حضرت محمد مصطفیٰ صلی علیہ وآلہ وسلم کے چھوٹے نواسے امام حسین علیہ السلام کی ولادتِ باسعادت کا دن ہے آپ تین شعبان العمظم سن 04ہجری کو مدینۃ المنورہ میں پیدا ہوئے تھے۔

آپ حضرت علی کرم اللہ وجہہ اور حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کے فرزند تھے آپ کی کنیت ابو عبداللہ اور مشہورالقاب سید الشہدا، مظلومِ کربلا اورفرزندِ رسول ہیں۔

فضائل ومناقب

آپ کے لئے پیغمبر اسلام کی شہرہ آفاق حدیث حسین و منی و انا من الحسین موجود ہے جس کے معنی ’’حسینؑ مجھ سے اور میں حسینؑ سے ہوں‘‘۔

ایک اور حدیث جو کہ امام حسینء اور آپ کے بڑے بھائی امام حسنؑ کی شان میں مشترکہ طور پر مشہور ہے اس میں آپ حضرات کی فضیلت کچھ اس طرح بیان کی گئی ہے کہ ’’ میرے دونوں بیٹے اس امت کے لئے امام ہیں چاہے کھڑے ہوں یا بیٹھے‘‘۔

امام حسین کی عمر اس وقت چھ سال تھی جب انکے انتہائی شفیق اور مہربان نانا اور امت کے پیغمبرؐ انتقال کرگئے۔

اہل خانہ

امام حسینؑ کی چار ازدواج شہربانو، رباب، ام لیلہٰ اورام اسحاق تھیں۔ آپ کی اولاد کی تعداد متفرق ہے لیکن جن پر علمائے امت کا اجماع ہےوہ درج ذیل ہیں

بیٹے

حضرت زین العابدینؑ
حضرت علی اکبرؑ
حضرت علی اصغرؑ

بیٹیاں

حضرت فاطمہ بنت الحسینؑ
حضرت فاطمہ صغراؑ
حضرت سکینہ بنت الحسینؑ

یزید کا مطالبۂ بیعت

امام حسینؑ امت کے امام تھے اور کسی بھی مشکل وقت میں امت کی اصلاح آپ پرلازم تھی۔ ساٹھ ہجری میں یزید بن معاویہؓ کے برسرِاقتدار آنے کے بعد امت میں افتراء پھیل گیا اور برائیاں عام ہونے لگیں اوریزید نے امام حسین سمیت جید صحابہ کرام اور ان کی اولادوں سے بیعت کا مطالبہ کردیا۔

امام حسینؑ نے یزید کے اس مطالبے کو رد کردیا اور مدینے سے مکۃ المعظمہ تشریف لے آئے جہاں یزید نے احرام حج میں ملوث قاتل آپ کے قتل کے لئے بھیجے۔ امام حسین کو دین اپنے نانا سے ورثے میں ملا تھا اورانہیں اسکی حرمت بے حد عزیز تھی لہذا کعبۃ اللہ کو خوں ریزی سے بچانے کے لئے آپؑ نے حج کے احرام کو عمرے میں تبدیل کیا اورعراق کی جانب روانہ ہوئے۔

کوفہ

آپؑ کا ارادہ کوفہ کی جانب جانے کا تھا جہاں آپؑ کے والد حضرت علی کے احباب رہا کرتے لیکن راستے میں خبر آئی کہ عبید اللہ ابن زیاد نے کوفہ پر بحیثیت گورنر قبضہ کرلیا ہے اور وہاں موجود آپ کے چچا زاد بھائی حضرت مسلم بن عقیل کو ان کے دو بچوں کے ہمراہ قتل کیا جاچکا ہے ۔ اس اطلاع کے بعد آپ نے راستہ بدلا اور وادی نینوا کی جانب روانہ ہوئے۔

امام حسینؑ اور واقعہ کربلا

دو محرم کو امام حسینؑ سرزمینِ عراق کی وادی نینوا میں واقعہ میدان کربلا میں وارد ہوئے اور خیمہ زن ہوگئے جہاں 10 محرم کو انسانی تاریخ کا وہ انقلابی معرکہ پیش آیا جسے تلوار پرخون کی فتح کا معرکہ کہا جاتا ہے۔

تاریخ کی مستند کتب سے مروی ہے کہ یزید نے کم از کم 30، ہزار کا لشکر بھیجا کہ امام حسینؑ کو صحرا میں خاموشی سے تہہ تیغ کردیا جائے۔

امام حسینؑ نے صحرائے کربلا میں اپنے 72 اہل خانہ اور اصحاب کے ساتھ جوانمردی سے جامِ شہادت نوش کیا آپؑ کے لشکر کی ہیبت اس قدر تھی کہ یزیدی فوج نے چھ ماہ کے کمسن حضرت علی اصغر کو بھی شہید کردیا۔

شہادت

10 محرم الحرام 61 ہجری کی سہہ پہر کو جنگ اپنے اختتام کی جانب بڑھی اورجب امامِ عالی مقام یزید کی افواج کے نرغے میں تنہا رہ گئے اور شمر ذی الجوشن نامی شخص نے آپ کو عین حالتِ سجدہ میں پشتِ گردن سے کند خنجرکے وارکرکے شہید کردیا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں