آرمی ایکٹ، آئین میں ترمیم سپریم کورٹ میں چیلنج -
The news is by your side.

Advertisement

آرمی ایکٹ، آئین میں ترمیم سپریم کورٹ میں چیلنج

لاہور: اکیسویں ترمیم اورفوجی عدالتوں کے قیام کو سپریم کورٹ لاہوررجسٹری میں چیلنج کردیا گیا، درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ بنیادی حقوق کے منافی قانون سازی نہیں کی جاسکتی۔

تفصیلات کے مطابق درخواست گزار بیرسٹر ظفراللہ کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ آئین کے آرٹیکل ایک سو پچھتر کے تحت عدلیہ اور انتظامیہ کے اختیارات کو یکجا نہیں کیا جاسکتا جبکہ آئین پاکستان کے مطابق ایسی کوئی قانون سازی نہیں کی جاسکتی جو بنیادی حقوق کے خلاف ہو۔

درخوست گزار کے مطابق سپریم کورٹ پہلے بھی فوجی عدالتوں کے خلاف فیصلے دے چکی ہےلہذا ملٹری کورٹس کا قیام توہینِ عدالت کے زمرے میں بھی آتا ہے۔

درخواست میں استدعا کی گئی کہ عدالت پارلیمنٹ کی جانب سے کی گئی اکیسویں ترمیم کو بنیادی حقوق کے خلاف اور کالعدم قرار دے۔

گذشتہ روزپارلیمنٹ نے بھاری اکثریت کے ساتھ آرمی ایکٹ اورآئین کے آرٹیکل آٹھ میں ترمیم کا بل منظورکیا تھا۔ اس موقع پرجماعتِ اسلامی، جمعیت العلمائے اسلام (ف) اور شیخ رشید نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔

سانحہ پشاور کے بعد پارلیمانی جماعتوں کے رہنماؤں نے پے درپے مشاورتی اجلاس کرکے دہشت گردی کے مقدمات کی سماعت کے لئے خصوصی عدالتوں کے قیام پراتفاق کیا تھا اور اس کے لئے آئین میں ترمیم بھی 245 ارکان کی بھاری اکثریت کے ساتھ منظورکی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں