The news is by your side.

Advertisement

اٹھارہ ماہ کے فلسطینی بچے کی اسرائیلیوں کے ہاتھوں شہادت، عالمی سطح پر مذمت

نیویارک : اقوام متحدہ اور امریکا نے اسرائیلی آبادکاروں کی جانب سے اٹھارہ ماہ کے فلسطینی بچے کو زندہ جلائے جانے کی مذمت کرتے ہوئے ملزموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ کیا ہے۔

بے گناہ فلسطینیوں پر اسرائیلی مظالم کا سلسلہ جاری ہے، اسرائیلی بربریت کا نیا مظاہرہ اٹھارہ ماہ کے بچے کوزندہ جلا دئیے جانے کی صورت میں سامنے آیا، اسرائیلی آباد کاروں نے نابلس میں فلسطینی خاندان کے گھر کو آگ لگا دی، جس میں جل کراٹھارہ ماہ کا بچہ شہید اور بچے کے والدین اور بھائی شدید زخمی ہوگیا۔

اقوام متحدہ اور امریکا نے بچے کی شہادت پر رسمی کارروائی کے طور پر واقعے کی مذمت تو کی لیکن اسرائیل کو کھل کر قصوروار ٹھہرانے سے حسب معمول گریز کیا۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون کا کہنا تھا کہ زندہ جلائے گئے بچے کے قاتلوں کو کیفر کردارتک پہنچایا جائے، امریکی محکمہ خارجہ نے بیان میں فلسطینی بچے کو زندہ جلائے جانے کو وحشیانہ عمل قرار دیا اور فلسطین اور اسرائیل پر کشیدگی نہ بڑھانے پر زور دیا۔

جرمنی کی وزارتِ خارجہ نے بھی ایک بیان جاری کرکے صیہونی بستیوں کے باشندوں کے اس اقدام کی شدید مذمت کی ہے، جرمن وزارتِ خارجہ نے صیہونیوں کے اس اقدام کو ہولناک اور حیران کن قرار دیا ہے

اٹلی کی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں غرب اردن میں فلسطینی خاندانوں کے خلاف انتہا پسند صیہونیوں کے جرائم کی مذمت کی ہے اور ان غیر انسانی جرائم کے ذمہ داروں کو گرفتار اور سزا دئیے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔

اسپین کی حکومت نے بھی اس سلسلے میں ایک بیان جاری کیا ہے، اس بیان میں اسپین کی حکومت نے متاثرہ فلسطینی خاندان کو تعزیت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ فلسطینی بچے کا قتل مقبوضہ فلسطین میں ناقابل قبول صورت حال کا ثبوت ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں