اتوار, جنوری 18, 2026
اشتہار

اپردیرکے باشندے پہاڑی برف کے سہارے زندگی گزارنے پرمجبور

اشتہار

حیرت انگیز

طویل دورانیے کی لوڈ شیڈنگ نے اپردیر کے رہائشیوں کومجبورکردیا ہے کہ وہ لواری ٹاپ سے پہاڑوں پر جمی برف کاٹ کر لائیں اور گھریلو استعمال میں لائیں۔

نا صرف یہ بلکہ کچھ افراد نے تو اسے کاروبار بھی بنالیا ہے، رمضان میں گرمی کی شدت بڑھ رہی ہے اور لوگوں کو ٹھنڈے پانی کی ضرورت ہے جسے مدںظر رکھتے ہوئے کچھ افراد لواری ٹاپ سے برف کی سلیں کاٹ کر لارہے ہیں اور اسے بازار میں فروخت کررہے ہیں۔


پہاڑی کی چوٹی پر موجود برف کی یہ سلیں ان لوگوں کے لئے آمدنی کا ذریعہ بن گئی ہیں جو کہ انہیں اپنی پشت پر یا چھکڑے پرلاد کرلے آتے ہیں۔ ایک مقامی شخص نے انکشاف کیا ہے کہ وہ روزانہ 1،000 سے 1،200روپے کما لیتا ہے۔

بجلی کی قلت کے سبب ارد گرد کے علاقے جیساکہ مالاکنڈ، مردان، درگئی، بٹ خیلااورشیرگھر کے افراد بھی برف لینے لواری ٹاپ کا رخ کررہے ہیں۔ حالانکہ برف کوکاٹنا اور اسے نیچے لانا سخت محنت کا کام ہے لیکن لوگوں کےپاس روزگار کے متبادل ذرائع نا ہونے کے سبب لوگ مجبور ہیں کہ برف کی سلوں کو پہاڑ کی چوٹیوں سے اپنی پشت پراٹھالائیں۔

واضح رہے کہ اپر دیر میں ہرسال موسمِ سرما میں 7 سے 10 میٹربرف پڑتی ہے۔،

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں