The news is by your side.

Advertisement

اپنے عزیزوں کو نشے کی لعنت سے بچائیں

کوئٹہ: اپنے غزیزوں کو عزیز رکھئیے اور ان کو نشے کی لعنت سے بچانے کے لئے ہر ممکن کوششیں کریں کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ کے قریبی آپ سے ہمیشہ کے لئے دور ہو جائیں۔ دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی نوجوان میں منشیات کا رجحان بڑھنے لگا۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خواتین سمیت 6.7ملین افراد کوہیرون سمیت دیگر خطرناک نشوں کا عادی بتایا گیا ہے۔

نمائندہ اے آر وائی نیوز کے مطابق کوئٹہ میں ہیروئن کے نشے کا عادی25سالہ عصمت اللہ ایک فلاحی ادارے کے ری ہیبلیٹشن سینٹر میں اپنے جیسے 40دیگر نوجوانوں کے ساتھ زیر علاج ہے۔ بے بسی کی تصویر بنے ان نوجوانوں کے مطابق کسی کو والدین کی سختی، کسی کو بے جا لاڈ پیارتو کسی کو گھریلو جھگڑوں نے گھروں سے باہر وقت گزارنے پر مجبور کردیا اور وہ نشے کے عادی ہوگئے۔

ان نوجوان کے مطابق جہاں بگڑے سماج نے انہیں خطرناک نشوں میں مبتلا کردیا وہاں ان کو ان کے اپنے بھی چھوڑ کر چلیں گئے۔ اب تک نشے کے عادی پانچ ہزار افراد کا علاج کرنے والے معروف ادارے کے منتظم کا کہنا تھا کہ منشیات کی جانب نوجوانوں کا رحجان زیادہ ہے جس کی بڑی وجہ والدین یا سرپرستوں کی لاپرواہی ہے۔

اس حوالے سے بولان میڈیکل کمپلیکس کے شعبہ نفسیات کے سربراہ کا کہنا ہے کہ انسان کی جسمانی اور نفسیاتی ساخت میں بعض اوقات خامیوں کے باعث بچے بڑھتی عمر کے ساتھ ہی نشہ اور اس جیسی دیگر برائیوں کی جانب راغب ہوجاتے ہیں۔

منشیات کے عادی افراد کے حوالے سے ماہرین نفسیات کا کہنا تھا کہ والدین اپنے بچوں کی نفسیات کو سمجھتے ہوئے ان کے ساتھ دوستانہ تعلق بنائیں اور تمام برائیوں سے بچاؤ کیلئے کھل کر ان کی رہنمائی کریں، تو وہ انہیں معاشرتی برائیوں سے بچا سکتے ہیں۔

ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ نشہ انسانی وقار کو خاک میں ملا دیتا ہے، یہی وجہ ہے کہ نشئی افراد معاشرے سے کٹ کر گندگی کو اپنا مسکن بنالیتے ہیں۔ اگروالدین اپنی اولاد کی زندگی کو غرقاب ہوتا نہیں دیکھنا چاہتے تو ضروری ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں میں کوتاہی نہ برتیں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں