site
stats
عالمی خبریں

ایبولا وائرس مزید ممالک میں پھیلنے کا خطرہ

جنیوا: عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ مغربی افریقہ میں ایبولا کے کیسز کی تعداد 10141 ہو چکی ہیں، جن میں سے 4922 انتقال کر چکے ہیں، یہ وائرس افریقہ کے دیگر ممالک میں پھیلنے کا خطرہ پیدا ہو چکا ہے۔

عالمی میڈیا کے مطابق ماہرین کے خیال میں اس وائرس سے متاثرہ افراد کی اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے، ایبولا کے مہلک وائرس نے مغربی افریقہ کے ملکوں گنی، لائبیریا اور سیرا لیون کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے، اگرچہ یہ بیماری بڑی حد تک مغربی افریقی ممالک تک محدود ہے تاہم ایبولا کے تصدیق شدہ انفرادی کیسز ریاست ہائے ، امریکا، اسپین اور مالی میں بھی سامنے آئے ہیں۔

مالی میں وائرس ایک دو سالہ لڑکی کے ذریعے پہنچا تھا، جو جمعے کے روز انتقال کر گئی چونکہ اس لڑکی کو ملک کے ایک حصے سے دوسرے حصے تک لے جایا گیا، اس لیے خطرہ ہے کہ وائرس اس لڑکی سے کئی اور لوگوں تک بھی پہنچا ہوگا یہ لڑکی مجموعی طور پر 43 افراد کیساتھ رابطے میں آئی، جن میں دَس ہیلتھ ورکرز بھی شامل تھے اب ان تمام افراد کو نگرانی میں رکھا جا رہا ہے اور دیکھا جا رہا ہے کہ کہیں ان میں اس مرض کی علامات مثلاً بخار وغیرہ تو نظر نہیں آ رہا۔

  خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ وائرس آئیوری کوسٹ کو بھی اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے، جو کہ دنیا بھر میں کوکو کی پیداوار کے اعتبار سے پہلے نمبر پر ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے مطابق آئیوری کوسٹ سمیت پندرہ مغربی افریقی ممالک کو ایبولا سے شدید خطرات لاحق ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ مغربی افریقہ کے متاثرہ ممالک میں بتدریج خوشحالی دیکھنے میں آ رہی تھی تاہم ایبولا نے وہاں کی اقتصادی نمو کو بری طرح سے دھچکا پہنچایا ہے۔

عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ ایبولا وائرس سے بچاؤ کے لیے ویکسین کی تیاری کا کام تیزی سے جاری ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ اگلے سال کے وسط تک ایبولا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین تیار کر لی جائے گی۔

امریکی خبر رساں ادارے کے مطابق ایبولا کے حوالے سے دو ویکسینز انسانوں پر تجربات کے لیے تیار ہیں، جبکہ ایبولا کے حوالے سے دیگر پانچ تجرباتی ویکسینز پر بھی کام جاری ہے جو اگلے سال تک تیار ہو جائیں گی۔-

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top