The news is by your side.

Advertisement

ایم کیوایم کا سانحہ بلدیہ رپورٹ پرعدالت جانےکا اعلان

کراچی: ایم کیوایم نےسانحہ بلدیہ ٹاؤن کی جےآئی ٹی رپورٹ کےخلاف عدالت جانےکااعلان کردیا، رابطہ کمیٹی نے پریس کانفرنس میں کہا کہ ایم کیوایم کےخلاف ریاستی آپریشن کی تیاری کی جارہی ہے۔

ایم کیوایم کے مرکزنائن زیرو پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایم کیوایم رہنما خالد مقبول صدیقی کہنا تھا کہ ایم کیوایم کیخلاف شب خون مارنے کی تیاری کی جارہی ہے۔

اس موقع پر حیدرعباس رضوی نے کہا کہ ایک بار پھر ایم کیو ایم کیخلاف سازشیں شروع کر دیں گئیں ، سترہ برس سے ایم کیوایم کیخلاف میڈیاٹرائل جاری ہے،انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے بھی ایم کیو ایم کیخلاف کئی جے آئی ٹی رپورٹس بنائی گئیں، جناح پور کی سازش کا الزام ایم کیو ایم پر لگا مگر کئی سال گزرنے کے بعد بھی یہ الزام ثابت نہیں کیا جا سکا مگر اس بنیاد پر ہمارے ہزاروں کارکن شہید ہوئے اور ہمیں ملک دشمن قرار دیدیا گیا۔

انہوں نے کہاکہ ماضی میں کسی چوردروازے سے رعایت حاصل نہیں کی عدالتوں میں مقدمات کاسامناکیا اوربری ہوئے۔ انہوں نے کہاکہ آئینی اورقانونی ماہرین صورتحال کودیکھ رہے ہیں ہوسکتاہے ہم خود عدالت سے رجوع کریں۔

حیدر عباس رضوی کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم پر میجر کلیم کیس کا جھوٹا الزام لگایا گیا جب کہ حکیم سعید قتل کیس میں عدالتوں میں جو کچھ ہوا وہ بھی سب جانتے ہیں، آج ہمارے خلاف بیانات طالبان سے تعلق والی جماعت اسلامی بیانات دے رہی ہے جس سے تعلق رکھنے والے وحید برادران ڈرون حملے میں مارے گئے جب کہ القاعدہ کا اہم ترین دہشت گرد خالد شیخ محمد جماعت اسلامی راولپنڈی کی نائب ناظمہ کے گھر سے ملا۔

انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے چیرمین عمران خان اور شیریں مزاری کے بیانات پر بھی حیرانی ہوئی حالانکہ ان کے بیانات رکارڈ پر ہیں اور اسلام آباد دھرنے میں جو کچھ ہوتا رہا اس پر بھی بات کی جاسکتی ہے تاہم ہمارے قانونی اور آئینی ماہرین تمام صورتحال کاباریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں اور ہوسکتا ہے کہ ہم خود معاملے پر عدالت سے رجوع کریں۔

ایم کیوایم رہنما فاروق ستار نے کہا سیاسی مخالفین ایم کیوایم کودبانے کیلئے بے بنیاد جی آئی ٹی پیش کررہے ہیں، سنی سنائی بات کو جے آئی ٹی رپورٹ کا حصہ بنایا گیا جس کی قانون میں کوئی حیثیت نہیں۔

 رہنماؤں کا کہنا تھا کہ ایم کیوایم اس بے بنیاد اور من گھڑت رپورٹ کو عدالت میں چیلنج کریگی۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں