ایم کیو ایم نے آپریشن ضرب عضب کا دائرہ وسیع کرنے کا مطالبہ کردیا -
The news is by your side.

Advertisement

ایم کیو ایم نے آپریشن ضرب عضب کا دائرہ وسیع کرنے کا مطالبہ کردیا

کراچی: ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی نے کہا ہے کہ ملک بھر میں ایم کیو ایم کے کارکنوں کا قتل عام لمحہ فکریہ ہے، دہشت گرد پورے پاکستان کے قاتل ہیں، آرمی چیف سے گزارش ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کا دائرہ کار وسیع کیا جائے اور حکومت کی رٹ کو چیلنج کرنے والوں کو قرار واقعی سزا دی جائے۔

متحدہ قومی مومنٹ کے رہنماءحیدر عباس رضوی نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایم کیو ایم ایک دہائی سے طالبانائزیشن کے خلاف آواز اٹھا رہی ہے اور اس پر اسے سزا مل رہی ہے اور 100 سے زائد کارکن دہشت گردی کا نشانہ بن چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کے کارکن ندیم احمد کو گھر کے نزدیک دہشت گردوں نے انہیں شناخت کر کے قتل کیا جبکہ ندیم احمد کو طالبان کی جانب سے سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جا رہی تھیں، انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کے ایم پی اے منظر امام کے قتل کی ذمہ داری بھی طالبان نے قبول کی اور اس میں کوئی شک نہیں کہ طالبان اور ان کی معاون تنظیمیں کارکنوں کے قتل میں ملوث ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ندیم احمد عائشہ منزل پر ہونے والے بم دھماکے کے چشم دید گواہ تھے جنہوں نے عدالت میں پیش ہو کر مجرموں کو شناخت بھی کیا ، عائشہ منزل دھماکے کے گواہوں چوہدری اسلام اور منظر امام کو بھی شہید کیا جا چکا ہے اور اگر سندھ حکومت کی جانب سے ان کیلئے کوئی حفاظتی اقدامات کئے جاتے تو شائد ان کی جان بچ جاتی۔

حیدر عباس رضوی کا کہنا تھا کہ اگر ایم کیو ایم کے کارکنان، ذمہ داران کو اسی طرح نشانہ بنایا جاتا رہا اور دفاتر، جلوسوں پر حملے ہوتے رہے تو یہ آگ دوسری جماعتوں تک بھی پھیل سکتی ہے، کل کوئی دوسرا بھی دہشت گردوں کے عتاب کا شکار ہو سکتا ہے۔

رابطہ کمیٹی کا کہنا تھا کہ کراچی میں کالعدم تنظیموں کی بہت بڑی کھیپ موجود ہے جو آئے دن دہشت گردی کے واقعات میں براہ راست ملوث ہیں اور ذمہ داریاں قبول کرتی ہیں۔ حکومت کی رٹ کو چیلنج کرنے والے تمام لوگوں کو فی الفور گرفتار کر کے قانون کے مطابق قرار واقعی سزا دی جائے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں