The news is by your side.

Advertisement

ایم کیو ایم کے شہر بھر میں 9سے زیادہ مقامات پر دھرنے جاری

کراچی :  رینجرزکارروائی کے خلاف متحدہ قومی موومنٹ کے کارکنان نےاہم شاہراہوں پر دھرنا دے رکھا ہے، شرکاء کارکنوں کی رہائی کا مطالبہ اور رینجرزکے خلاف نعرے بازی کررہے ہیں۔ کارکنان نے مطالبہ کیا ہے کہ گرفتار ساتھیوں کی رہائی تک وزیرِاعلی ہاوس سمیت شہر بھر سے دھرنے ختم نہیں ہونگے۔

کراچی میں نو سے زائد مقامات پر کارکنان کے دھرنے اور گرفتاری کے خلاف شدید احتجاج کا سلسلہ  جاری ہے، ایم کیو ایم کے کارکنان نے نمائش، رضویہ سوسائٹی، کلفٹن دو تلوار، فیڈرل بی ایریا، لیاقت آباد، ملیر ، کورنگی ، ناگن چورنگی یوپی موڑ اور لانڈھی ، سمیت مختلف مقامات پر  دھرنے دے رکھے ہیں۔

کراچی میں رینجرز آپریشن کے دوران ایم کیو ایم کے کارکنان کی گرفتاری پر پارٹی رہنماؤں سمیت کارکنان سراپا احتجاج ہیں جبکہ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے شہر بھر میں دھرنوں کا اعلان کیا ہے۔

ایم کیو ایم رہنماء حیدر عباس رضوی کا کہنا تھا کہ کارکنان کو بہیمانہ تشدد کرکے گرفتار کیا گیا، کیا ایم کیو ایم میں ہونا جرم ہے؟ وسیم اختر نے کہا ہے کہ  ہم ملک دشمن نہیں ، ٹیکس ادا کرنے والے مہذب اور پر امن شہری ہیں۔

  ایم کیو ایم رہنماء خواجہ اظہار الحسن نے کہا ہے کہ اگر ایم کیوایم کے کارکنان کے ساتھ یہی سلوک روا رکھا گیا اور معاملہ سیاسی طریقے سے حل نہ کیا گیا تو بات بہت دوور تلک جائے گی۔

رات گئے سے سی ایم ہاوس کے باہرموجود بڑی تعداد میں کارکنان گرفتار ساتھیوں کی رہائی کا مطالبہ کر رہے ہیں، ایم کیو ایم نے مطالبہ کیا کہ جب تک تمام کارکنان کو رہا نہیں کیا جاتا ، وزیرِاعلی ہاوس سمیت شہر بھر سے دھرنے ختم نہیں ہونگے۔

گذشتہ روز اسکیم 33 میں واقع ایم پی اے آفس پر جنرل ورکرز اجلاس کے دوران رینجرز نے چھاپہ مارا اور ایم کیو ایم کے تیئس کارکنان کو حراست میں لے لیا، گرفتاریوں کے خلاف ایم کیو ایم کا احتجاج جاری ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں