site
stats
اہم ترین

این اے 122 کی تحقیقاتی رپورٹ الیکشن ٹریبونل میں جمع

لاہور: این اے ایک سو بائیس کی تحقیقات کے لیے تشکیل دیئے گئے کمیشن نے ووٹوں کے ریکارڈ اور جانچ پڑتال کی رپورٹ الیکشن ٹریبونل میں جمع کرا دی ہے۔

تحریکِ انصاف کے طویل احتجاج کے بعد الیکشن کمیشن کی جانب سے تشکیل پانے والے ایک رکنی کمیشن نے این اے ایک سو بائیس کے ووٹوں کی جانچ پڑتال کی رپورٹ الیکشن ٹریبونل میں جمع کرا دی ہے۔

رپورٹ کے مطابق مسلم لیگ نون کے سردار ایاز صادق نے بانوے ہزار تین سو ترانوے ووٹ حاصل کئے جبکہ تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان نے تراسی ہزار پانچ سو بیالیس ووٹ حاصل کئے اور دیگر امیدواروں نے چار ہزار ایک سو اسی ووٹ حاصل کئے۔

سابق سیشن جج غلام حسین اعوان کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ این اے ایک سو بائیس میں ووٹوں کے پندرہ تھیلے کھلے ہوئے تھےاور دس تھیلے مناسب طریقے سے سیل نہیں کیے گئے تھے جبکہ اسی تھیلوں میں سے فارم 15غائب تھے۔

رپورٹ کے مطابق دو سو چار کاؤنٹر فائلوں کے سیریل نمبر ایک دوسرے سے میچ نہیں کرتے جبکہ متعدد پولنگ اسٹیشنز کی کاؤنٹرفائلوں پر دستخط موجود نہیں ۔

دوسری جانب این اے ایک سو چوبیس کے ووٹ بھی این اے ایک سو بائیس کے ریکارڈ سے ملے ہیں۔

رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد تحریک انصاف کے حامیوں کے بھنگڑے ڈالے اور مٹھائی بھی تقسیم کی۔

دوسری جانب الیکشن ٹریبونل نے این اے 122 دھاندلی کیس کی سماعت سترہ جنوری تک ملتوی کرتے ہوئے کمشن کی رپورٹ تحریک انصاف اور نون لیگ کے وکلاء کو فراہم کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔

الیکشن ٹربیونل کے جج کاظم علی ملک نے این اے 122 دھاندلی کیس کی سماعت کی۔ ٹریبونل نے قرار دیا کہ الیکشن ٹربیونل ایک خودمختار ادارہ ہے، اس کا الیکشن کمشن سے کوئی تعلق نہیں، دونوں جماعتوں کے رہنماؤں کے بیانات سے کنفیوژن پیدا ہو رہا ہے، لگتا ہے دونوں فریقین ایک دوسرے کا میڈیا ٹرائل کر رہے ہیں۔

ٹربیونل نے کمشن کی جانب سے جمع کرائی رپورٹ تحریکِ انصاف اور نون لیگ کے وکلاء کو فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت سترہ جنوری تک ملتوی کر دی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top