The news is by your side.

Advertisement

این اے122: نادرا نے فرانزک رپورٹ الیکشن ٹریبونل میں جمع کرا دی

لاہور: نادرا نے این اے ایک سو بائیس کی فرانزک رپورٹ الیکشن ٹریبونل میں جمع کرا دی ۔

این اے122 کی فرانزک رپورٹ نادرا نے الیکشن ٹریبونل میں پیش کردی، رپورٹ کی کاپی اے آر وائی نیوز نے حاصل کرلی، رپورٹ کے مطابق حلقے میں تیرانوے ہزار ووٹوں کی تصدیق نہ ہوسکی۔

نادرانےحلقہ این اے122میں انگوٹھوں کی تصدیق مکمل کرکے فرانزک رپورٹ الیکشن ٹریبونل میں پیش کردی، حلقے کے 84پولنگ اسٹیشن کی جانچ کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق6123کاؤنٹرفائل پرجعلی شناختی کارڈ نمبردرج تھے، پولنگ اسٹیشن نمبر13اور27میں370 کاؤنٹرفائلز پر شناختی کارڈ نمبر ہی نہیں تھے، حلقےمیں1لاکھ84ہزار ووٹ کاسٹ ہوئے تھے، جس میں سے 73ہزار478ووٹوں کی تصدیق ہوئی، جن میں51ووٹوں کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

فنگرپرنٹس کوالٹی اچھی نہ ہونے کی وجہ سے نادرا سسٹم 93ہزار852ووٹوں کی تصدیق نہ کرسکا، 570شناختی کارڈز حلقے میں رجسٹرڈ ہی نہیں تھے۔

سماعت 16 مئی تک ملتوی کرتے ہوئے ڈائریکٹر نادرا کو طلب کر لیا گیا ہے، تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اور سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کے وکلاء رپورٹ اپنے حق میں آنے کے دعوے کرتے رہے۔

الیکشن ٹریبونل کاظم علی ملک نے حلقہ این اے 122 دھاندلی کیس کی سماعت کی، نادرا کی جانب سے ووٹوں کی فرانزک رپورٹ پیش کی، جو ٹریبونل نے فریقین کے وکلاء کو فراہم کر دی۔ ٹریبونل نے کیس کی سماعت 16 مئی تک ملتوی کرتے ہوئے ڈائریکٹر نادرا کو طلب کر لیا ہے۔

سماعت کے بعد تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے وکیل شعیب صدیقی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نادرا کی فرانزک رپورٹ 781 صفحات پر مشتمل ہے، جس کے مطابق حلقے میں مجموعی طور پر 1 لاکھ 84 ہزار ووٹ ڈالے گئے، جن میں سے 93 ہزار 582 کی تصدیق نہیں ہو سکی، 73 ہزار 478 ووٹوں کی انگوٹھوں کے نشانات کے ذریعے تصدیق ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ رپورٹ کے مطابق 570 ووٹرز حلقے میں رجسٹرڈ ہی نہیں تھے جبکہ 1715 کاؤنٹر فائل پر انگوٹھوں کے نشانات نہیں تھے۔ عمران خان کے وکیل نے کہا کہ رپورٹ میں 6123 ایسے ووٹوں کی نشاندہی کی گئی جو جعلی شناختی کارڈز پر ڈالے گئے۔ 255 ووٹوں کیلئے ڈوپلیکیٹ شناختی کارڈز استعمال کئے گئے۔

شعیب صدیقی نے کہا کہ حلقے میں کل 284 پولنگ اسٹیشنز تھے، رپورٹ میں دھاندلی ثابت ہو چکی ہے۔

اس موقع پر سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کے بیٹے علی ایاز نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ رپورٹ ابھی ملی ہے، پڑھنے کے بعد رائے دینگے، کسی کی خواہشات پر استعفٰی نہیں دیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ استعفٰی تو عمران خان کو دینا چاہیئے جنہوں نے کنٹینر پر کھڑے ہو کر بولا تھا کہ استعفٰی لے کر یا دے کر جاؤں گا۔

ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کے وکلاء نے یہ کیسے کہہ دیا کہ نادرا سے ووٹوں کی تصدیق نہیں ہوئی، تمام ووٹوں کی تصدیق ہو چکی ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں