The news is by your side.

Advertisement

ایکشن پلان دینی مدارس کی مشاورت سے بنایا جائے،سراج الحق

لاہور: جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے کہا ہے کہ دہشت گرد کوئی بھی ہو ہم اس کی مذمت کرتے ہیں ان کا کہنا تھا کہ ایک مخصوص لابی کے دباؤ میں آ کرمدارس کے خلاف پروپگینڈے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسلام میں دہشت گردی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ دینی مدارس میں پڑھنے والے 30 لاکھ طلباء بھی پاکستانی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مرکزی و صوبائی تعلیمی بجٹ میں دینی مدارس کا کوئی حصہ نہیں ہوتا،دینی مدارس کی رجسٹریشن کی درخواستیں محکموں میں پڑی ہیں۔

حکومت خود دینی مدارس کے معاملے پر لیت و لعل سے کام لے رہی ہے، سراج الحق نے کہا کہ پشاور سانحہ کو ایک مخصوص لابی دینی مدارس کے خلاف استعمال کر رہی ہے۔

سانحہ پشاور ہمارے لیے نائن الیون سے بڑھ کر ہے،ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ایکشن پلان میں مدارس کی رجسٹریشن اور آڈٹ کا ذکر ہے ۔

گزشتہ پندرہ سالوں سے دینی مدارس ذمہ داران کا رجسٹریشن کا مطالبہ تھا،پاکستان کے آئین کے سب سے زیادہ وفا دار علماء اور دینی مدارس ہیں۔

انہوں نے وزیر اعظم سے مطالبہ کیا کہ وزیر اعظم جو بھی ایکشن پلان بنائیں ، دینی مدارس سے مشاورت کریں،سراج الحق پاکستان کو مغرب کے پروپگینڈے میں آکر مدارس کو بدنام نہیں کرنا چا ہیے،مساجد اللہ کا گھر ہیں ،ان کی توہین کوئی برداشت نہیں کر سکتا۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں