ایک تقسیم ملک میں اورایک تحریک ِانصاف میں ہورہی ہے،عمران خان -
The news is by your side.

Advertisement

ایک تقسیم ملک میں اورایک تحریک ِانصاف میں ہورہی ہے،عمران خان

اسلام آباد: پاکستان تحریک ِ انصاف کے سربراہ عمران خان نے آزادی مارچ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج پورا ملک دو حصوں میں تقسیم ہے اور ایک تقسیم تحریک ِ انصاف میں بھی ہورہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک طرف غریب عوام ہے تو دوسری جانب چھوٹا سا طالم طبقہ یعنی ’’اسٹیٹس کو‘‘ ہے اور آج یہ فرق واضح نظر آرہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اکیس سال گراؤنڈ میں مقابلہ کرنا سیکھا ہے، مضبوط ٹیموں سے مقابلہ کرنے میں زیادہ مزہ آتا ہے، انہوں نے سوال کیا کہ ہمیں بتایا جائے کہ ہم نے کونسا غیر جمہوری عمل کیا ہے، ہماری تحریک جمہوری حقوق کے حصول کی جدوجہد ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ ایک تقسیم ملک میں اور ایک تقسیم تحریک ِ انصاف میں ہورہی ہے، ہمیں پتہ چل رہا ہے کہ کون قوم کی خدمت کرنے آیا ہے اور کون سونامی کی لہروں سے فائدہ اٹھانے آیا ہے۔

ہم نواز شریف کے خلاف نہیں بلکہ اس مخصوص ذہنیت کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں جو عوام کے حقوق صلب کرتی ہے۔

انہوں نے ارسطو کی حکایت کا بھی تذکرہ کیا کہ’’کوئی انسان ظلم اور زیادتی کو برداشت نہیں کرے گا سوائے اس کے جو بزدل اور خود غرض ہوگا‘‘۔

خیبر پختونخواہ میں اگر کوئی وزیر کسی پولیس والے کو غلط احکام دیتا ہے تو وہ ان احکامات کو قبول کرنے سے انکارکردیتا ہے اور اگر کسی کو اس بات میں شک ہے تو کے پی کے آئی جی ناصر درانی سے تصدیق کرسکتا ہے۔

عمران خان نے کہا کہ زندگی میں اتنا مزہ نہیں آیا جتنا آج کل آرہا ہے اللہ نے میری ساری زندگی اس مقابلے کے لیے ٹریننگ کرائی تھی یہ ساری تحریک حقوق کی تحریک ہے یہ انسانی حقوق کی تحریک ہے یہ جمہوری حقوق کی تحریک ہے، پارلیمنٹ میں جتنا زہر اگل رہا تھا وہ اتنا ہی دو نمبر ہے، اتنا ہی خوف تھا اس کو پارلیمنٹ میں بڑی بڑی تقریریں ہوئیں، جو زیادہ زور لگا رہا تھا۔ اسے خوف تھا اگرمیں کامیاب ہوگیا تو وہ ایوانوں اور محلوں سے نکل کرجیل جائیں گے اسی لیے سب شور مچا رہے ہیں ۔

انھوں نے کہا کہ نواز شریف نے گیلانی کو کہا کہ کرپشن کی انکوائری تک استعفی دو وہ یوسف رضا گیلانی کے لیے ٹھیک تھا، نواز شریف کیلئے ٹھیک نہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں