ایک شخص گائےکی دم پکڑ کر گھرمیں داخل ہونا چاہتاہے، فضل الرحمان -
The news is by your side.

Advertisement

ایک شخص گائےکی دم پکڑ کر گھرمیں داخل ہونا چاہتاہے، فضل الرحمان

اسلام آباد: حکومتی اتحادیوں پاکستان مسلم لیگ ن اور جمیعت علمائے اسلام (ف) میں بائیسویں ترمیم پر مذاکرات تیسری بار بھی کامیاب نہ ہوسکے۔

مولانا فضل الرحمن نے اکیسیویں ترمیم میں دینی طبقات کو نشانہ بنانے پر تحفظات دور کرنے تک بائیسویں ترمیم کی حمایت سے انکار کردیا،ان کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف بائیسویں ترمیم کو گائے بنا کر اس کے دم پکڑ کر اسمبلی میں داخل ہونا چاہتی ہے اس ترمیم کو گائے نہیں بننے دیں گے۔

وزیر اعظم کی ہدایت پر وفاقی وزراء پرویز رشید اور خواجہ سعد رفیق نے مولانا فضل الرحمن سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی ،ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ انہوں نے حکومتی ٹیم سے پچھلی ملاقات اور آل پارٹیز کانفرنس میں بھی صاف کہہ دیا تھا کہ ابھی تک تو اکیسویں ترمیم کے دینی طبقات کو لگائے گئے زخم نہیں بھرے تو بائیسویں ترمیم کی حمائت کیسے کرسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ابھی بھی ہم نے اپنے تحفظات حکومتی ٹیم کے سامنے تفصیل سے رکھے ہیں دیکھتے ہیں یہ کیا جواب دیتی ہے،انہوں نے کہا کہ یہ افسوس کی بات کی ہے کہ ہم حکومتی اتحادی بھی ہیں مگر ہمارے درمیان اتحاد ایک طرح سے تعطل کا شکار ہے اس تعطل کو دور کرنا چاہتے ہیں ،مگر یہ کیسے تسلیم کرلیں کہ مذہب،فرقہ،مسلک کے خلاف قانون سازی کی جائے اور ہم اس امتیازی قانون سازی کو مان لیں۔

وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید نے کہا کہ انہوں نے مولانا فضل الرحمن کو تفصیل سے سنا ہے اب یہ سب کچھ وزیر اعظم کے سامنے رکھیں گے ہم سمجھتے ہیں کہ جس طرح سیاست اور جمہوریت مولانا فضل الرحمن کے بغیر مناسب نہیں لگتی اسی طرح دہشتگردی کے خلاف جنگ بھی ان کی مکمل حمائت کے بغیر اپنی منزل تک نہیں پہنچ سکتی ،انہوں نے کہا کہ آمریتوں کا ڈالا ہوا گند صاف کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

دوسری جانب تحریک انصاف کی رہنما شیریں مزاری کا کہنا تھا کہ فضل الرحمن ہمیشہ سے اقتدار کے غلام ہیں،فضل الرحمن کی اخلاقیات ان کو دھاندلی زدہ حکومت میں شرکت سے نہیں روکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف اصولی موقف پر اسمبلیوں سے مستعفی ہوئی،مولانا کی پوری سیاست کشمیر کمیٹی اور ایک آدھ وزارت کے گرد گھومتی ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں