site
stats
اہم ترین

بادشاہت قائم کرنے کا خواب پورانہیں ہونے دیں گے،قادری

اسلام آباد:  ڈاکٹر طاہر القادری نے انقلاب مارچ کے شرکاء سے خطاب میں کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے کارکنوں کی مشکلات میں اضافہ کیا گیا، ایسے پر امن احتجاج کی مثال نہین ملتی، ملک کو  شریف برادران کی بادشاہت کرنے کا خواب پورا نہیں ہونے دیں گے۔

طاہر القادری نے کہا کہ ہمارے حکومت کے ساتھ چھ سے سات بار مذاکرات ہوئے ، ہماری پہلی شرط تھی کہ سترہ جون کو جو قتل عام ہوا ، جس میں چودہ شہید اور نوے زخمی ہوئے ، انکی ایف آئی آر نامزد قاتلوں کے نام درج کی جائے۔ دوسری شرط یہ تھی کہ شہباز شریف جن کے حکم پر خون کی ہولی کھیلی گئی، وہ استعفی دیں ۔

طاہر القادری نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی تشکیل بھی دھاندلی تھی، 2013 کا الیکشن دھاندلی تھا، غیر آئینی طریقے سے کروائے گئے انتخابات کیسے ٹھیک ہوسکتے ہیں ۔ رات پونے ایک بجے وزیر اعظم بننے کا اعلان کیا گیا ۔

طاہرالقادری نے کہا کہ وزیراعظم ہاؤس اورپاک سیکریٹریٹ پر کارکنان کا قبضہ ہے، انھوں نے کہا کہ  وزیرصاحب کہتے ہیں کہ عمران اور مجھے ایک ہی رات خواب آیاتھا خواب کوچھوڑیں ہم آپ کودن میں تارے دکھائیں گے ایک سال میں28سال کےبرابر قبضہ لیا گیا، دو سمندر نکلیں ہیں، ایک آزادی اورایک انقلاب کا انقلاب لاکرقوم کو آزادی دلائیں گے، ان کے اقتدار کی تدفین بغیر کفن اور جنازے کی ہوگی۔

انھوں نے مزید کہا کہ خان صاحب ایک خوشخبری سنیں پاک سیکریٹریٹ کےباہراوراندر کارکنان کا قبضہ ہے کارکنان وزیراعظم ہاؤس پہنچ گئے ہیں قاتل وزیراعظم اب اندرداخل نہیں ہوسکتے پولیس چوکیاں خالی کرکے چلی گئی ہے۔

ڈاکٹر طاہر القادری  نے مزید کہا کہ گزشتہ روز آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ تشدد کے راستے اختیار کئے بغیر مذاکرات کے ذریعے سیاسی طریقے سے اس مسئلے کو حل کیا جائے مگر بدقسمتی سے حکومت تشدد کے سوا کسی دوسرے طریقے پر اعتماد نہیں کرتی، یہ لوگ صرف ظلم ، جبر اور ریاستی اداروں پر اعتقاد رکھتے ہیں، ہم ان معاملات کو پاک فوج کو شامل کرنے کے حق میں نہیں اور پاک فوج بھی اس میں شامل ہونا نہیں چاہتی۔ وزیراعظم نواز شریف نے اپنی ناکامی تسلیم کرتے ہوئے آرمی چیف کو اپنا کردار ادا کرنے کا کہا تھا۔

ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا کہ حکومت کی فطرت میں دہشت، بربریت اور ظلم ہے۔ ہفتے کی رات پولیس کی جانب سے پر امن مظاہرین پر جبر و تشدد کی پاکستان سمیت دنیا بھر میں مذمت کی گئی۔ جس کے بعد آج ایک مرتبہ پھر پولیس کی جانب سے شدید شیلنگ کی گئی، حکومت جمہوریت اور مزاکرات پر یقین نہیں رکھتی۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top