The news is by your side.

Advertisement

برطانیہ میں نئے وزیرِاعظم کا چناؤ آج ہوگا

لندن: برطانیہ میں انتخابات کی گھڑی آن پہنچی ہیں، چند گھنٹوں بعد پولنگ شروع ہوجائے گی۔

برطانیہ میں چھپن ویں پارلیمانی انتخابات میں چند گھنٹوں بعد ووٹرز اپنے پسندیدہ امیداروں کے حق میں ووٹ کاسٹ کریں گے، ملکہ سمیت شاہی خاندان ووٹ نہیں ڈال سکے گا۔

برطانیہ میں نئی حکومت بنانے کے لئے ایڈ ملی بینڈ، ڈیوڈکیمرون، نک کلیگ اور نائیجل فاراج میں تگ و دو جاری ہیں۔

برطانیہ کے انتخابات کے لئے تمام تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں، برطانوی ووٹرز آج چالیس ہزار پولنگ اسٹیشنز میں صبح سات بجے سے رات دس بجے تک اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔

برطانیہ کے انتخابات میں چالیس ہزار پولنگ اسٹیشنز بنائے گئے ہیں۔ یہ پولنگ اسٹیشنز اسکولوں کی عمارتوں کے علاوہ فٹبال اورباکسنگ کلبس میں بھی بنائے گئے ہیں۔ ان کے علاوہ چرچ، مساجد،اور بودھ مذہبی عمارتوں کو بھی پولنگ اسٹیشنز کے لئے استعمال کیا جائے گا۔

برطانیہ کے ہاؤس آف کامنز کی 650 نشستوں کے لیے انتخابی تاریخ کا سخت ترین مقابلہ متوقع ہے، برطانیہ کی چار ریاستوں انگلینڈ، آئرلینڈ ، اسکاٹ لینڈ اور ویلز میں چار کروڑ سے زائد ووٹرز حق رائے دہی استعمال کرینگے، عام انتخابات میں ایشین نژاد شہریوں کے ووٹ کی اہمیت بڑھ گئی ہیں۔

چھپن ویں انتخابات میں پانچ نمایاں سیاسی جماعتیں کنزرویٹو یعنی ٹوری پارٹی، لیبر پارٹی، لبرل ڈیموکریٹ پارٹی، اسکاٹش نیشنل پارٹی اور یوکے انڈیپینڈنس پارٹی حصہ لے رہی ہیں، 2010 میں کنزرویٹوپارٹی نے 307 نشستیں لے کر 57 نشستوں والی لبرل ڈیموکریٹ پارٹی کے ساتھ پانچ سال کے لئے اتحادی حکومت بنائی تھی جبکہ لیبرپارٹی نے 258 اور نیشنل اسکاٹش پارٹی نے 6 نشستیں حاصل کی تھیں۔

دو ہزار پندرہ کے انتخابات میں ڈیوڈ کیمرون کی ٹوری 280، ایڈ ملی بینڈ کی لیبر 268، نکولا سٹرجن کی نیشنل اسکاٹش پارٹی 50، نک کلیگ کی لبرل ڈیموکریٹ 27 اور یوکے انڈیپینڈنس پارٹی کو 3 نشستیں ملنے کی توقع ہے۔

وزیراعظم کیمرون کو معیشت کی بحالی، 20 لاکھ نئی نوکریوں کے مواقع پیدا کر نے، عام آدمی کے لیے اپنا گھر اسکیم، پہلی اقلیتی مسلم خاتون کی کابینہ میں شمولیت، کم از کم تنخواہ میں اضافہ سمیت ہم جنس پرستوں کی شادیوں کے بل کی وجہ سے برتری حاصل ہے جبکہ ویلفیئر اخراجات میں کٹوتی، یورپی یونین سے علیحدگی کے خلاف ٹھوس مؤقف اور ہیومن رائٹس ایکٹ بل پر شدید مخالفت کا سامنا ہے۔

اسی طرح لبرل ڈیموکریٹ بھی اپنے سابقہ اتحادی سے دور جاتی نظر آتی ہے، ٹوری پارٹی کو یو کے انڈیپینڈنس پارٹی کے ساتھ الحاق پر بھی تنقید کا سامنا ہے، جو برطانیہ کو یورپی یونین سے الگ کرنے کی حامی ہے۔

انتخابات میں لیبر اور اسکاٹش نیشنل پارٹی کے مابین اتحادی حکومت تشکیل دیئے جانے کے زیادہ امکانات ہیں۔

ایک امیدوار کو انتخابی مہم میں تیس ہزار سات سو پاؤنڈ خرچ کرنے کی اجازت ہے۔

ان انتخابات میں سب سے کم عمر امیدوار بیس سالہ خاتون مہیری بلیک ہیں جبکہ عمررسیدہ امیدوار چوراسی سالہ جیرالڈکوف مین ہیں، جو بارہویں بارانتخابات میں حصہ لےرہے ہیں، ان امیدواروں میں چھبیس فیصد امیدوار خواتین ہیں، انتخابات میں حصہ لینے والے اکتیس فیصد امیدواروں نے نجی تعلیمی اداروں سے تعلیم حاصل کی ہے، انیس سو اکتیس کے بعد پہلی بار جمعرات کے دن انتخابات کا انعقاد کیا جارہا ہے۔

سنہ دوہزار دس میں پینسٹھ فیصد ووٹرز نے اپناحق رائے دہی استعمال کیا تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں