The news is by your side.

Advertisement

برطانیہ: پارلیمانی انتخابات کے لئے ووٹنگ جاری

لندن: برطانیہ میں پارلیمانی انتخابات کے لئے ووٹنگ جاری ہے، چھپن ویں پارلیمنٹ کے انتخاب کیلئے رجسٹرڈ ووٹرزکی تعداد پانچ کروڑ ہے۔

مقامی وقت کے مطابق ووٹنگ صبح سات بجے شروع ہوئی، جو بغیر کسی وقفے کے رات دس بجے تک جاری رہے گی، پانچ کروڑ اہل ووٹرز کے لئے ملک بھر میں پچاس ہزار پولنگ اسٹیشنز بنائے گئے ہیں۔

پہلی بار برطانیہ میں آن لائن ووٹ ڈالنے کیلئے بھی رجسٹریشن ہوئی، انتخابات میں چھ سو پچاس نمائندے چنے جائیں گے، برطانوی آئین کے مطابق ملکہ برطانیہ اور شاہی خاندان کےافراد ووٹ نہیں ڈال سکیں گے۔

انتخابات میں حصہ لینے والی اہم پارٹیوں میں ڈیوڈ کیمرون کی لیبر پارٹی، ایڈملی بینڈ کی کنزرویٹو پارٹی، نک کلیگ کی لبرل ڈیموکریٹک پارٹی اورنائیجل فراج کی یوکے انڈیپینڈنٹ پارٹی نمایاں ہیں تاہم لیبرپارٹی اور کنزرویٹو پارٹٰی میں سخت مقابلے کی توقع ہے۔

سیاسی جماعتوں کو حکومت بنانےکے لئے تین سوچھبیس نشستیں جیتنا ضروری ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق کوئی موجودہ صورتحال میں کوئی بھی ضماعت سادہ اکثریت حاصل نہیں کرسکی گی، مخلوط حکومت کے قیام کے زیادہ امکانات ہیں۔

انتخابات کے مکمل نتائج جمعے تک متوقع ہیں، برطانیہ کے موجودہ وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون کی کنزرویٹو جماعت نے دو ہزار دس کے الیکشن میں تین سو سات نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی۔

برطانیہ کے ہاؤس آف کامنز کی 650 نشستوں کے لیے انتخابی تاریخ کا سخت ترین مقابلہ متوقع ہے، برطانیہ کی چار ریاستوں انگلینڈ، آئرلینڈ ، اسکاٹ لینڈ اور ویلز میں چار کروڑ سے زائد ووٹرز حق رائے دہی استعمال کرینگے، ایک امیدوار کو انتخابی مہم میں تیس ہزار سات سو پاؤنڈ خرچ کرنے کی اجازت ہے، عام انتخابات میں ایشین نژاد شہریوں کے ووٹ کی اہمیت بڑھ گئی ہیں۔

چھپن ویں انتخابات میں پانچ نمایاں سیاسی جماعتیں کنزرویٹو یعنی ٹوری پارٹی، لیبر پارٹی، لبرل ڈیموکریٹ پارٹی، اسکاٹش نیشنل پارٹی اور یوکے انڈیپینڈنس پارٹی حصہ لے رہی ہیں، 2010 میں کنزرویٹوپارٹی نے 307 نشستیں لے کر 57 نشستوں والی لبرل ڈیموکریٹ پارٹی کے ساتھ پانچ سال کے لئے اتحادی حکومت بنائی تھی جبکہ لیبرپارٹی نے 258 اور نیشنل اسکاٹش پارٹی نے 6 نشستیں حاصل کی تھیں۔

وزیراعظم کیمرون کو معیشت کی بحالی، 20 لاکھ نئی نوکریوں کے مواقع پیدا کر نے، عام آدمی کے لیے اپنا گھر اسکیم، پہلی اقلیتی مسلم خاتون کی کابینہ میں شمولیت، کم از کم تنخواہ میں اضافہ سمیت ہم جنس پرستوں کی شادیوں کے بل کی وجہ سے برتری حاصل ہے جبکہ ویلفیئر اخراجات میں کٹوتی، یورپی یونین سے علیحدگی کے خلاف ٹھوس مؤقف اور ہیومن رائٹس ایکٹ بل پر شدید مخالفت کا سامنا ہے۔

ان انتخابات میں سب سے کم عمر امیدوار بیس سالہ خاتون مہیری بلیک ہیں جبکہ عمررسیدہ امیدوار چوراسی سالہ جیرالڈکوف مین ہیں، جو بارہویں بارانتخابات میں حصہ لے رہے ہیں، ان امیدواروں میں چھبیس فیصد امیدوار خواتین ہیں، انتخابات میں حصہ لینے والے اکتیس فیصد امیدواروں نے نجی تعلیمی اداروں سے تعلیم حاصل کی ہے، انیس سو اکتیس کے بعد پہلی بار جمعرات کے دن انتخابات کا انعقاد کیا جارہا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں