site
stats
اہم ترین

بلدیہ فیکٹری آتشزدگی سانحہ نہیں دہشت گردی نکلا، بھتے کے لئے آگ لگائی گئی: رپورٹ

کراچی: سانحہ بلدیہ ٹاؤن کیس میں تیس ماہ بعد اہم پیشرفت ہوئی ہے، جے آئی ٹی کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ فیکٹری کوآگ بھتہ نہ دینے پرلگائی گئی اور اس واقعے کا مرکزی ملزم ایک سیاسی جماعت کا عہدیدارہے۔

10ستمبر2012 کو کراچی کے علاقے بلدیہ ٹاؤن میں واقع ایک فیکٹری میں یکایک خوفناک آگ بھڑک اٹھی جس کے نتیجے میں ڈھائی سو سے زائد فیکٹری ورکر اپنی جان سے ہاتھ دھوبیٹھے۔

سانحے کی تفتیش نےجہاں ایک جانب فیکٹری ملازمین کی حفاظت کے تحت اٹھائے گئے اقدامات پرسوالیہ نشان اٹھائے بلکہ مزید کئی شکوک و شبہات کو جنم دیا۔

واقعے کی تحقیقات کے بعد کیس تقریباً داخلِ دفترکردیا گیا تھا کہ 14 جنوری 2015 کوسندھ ہائی کورٹ نےقانون نافذ کرنے والے اداروں سے واقعے کی جے آئی رپورٹ طلب کرلی۔

رینجرز نے آج 6 فروری کو سانحے کی رپورٹ ہائی کورٹ میں جمع کرائی جس میں انکشاف ہوا ہے کہ یہ اتفاقی حادثہ نہیں بلکہ منظم دہشت گردی تھی۔

عدالت میں پیش کی جانے والی جے آئی ٹی رپورٹ کے مطابق سانحے کا مرکزی ملزم پکڑا جاچکا ہے جس نے دوران تفتیش انکشاف کیا ہے کہ سیاسی جماعت کے اعلیٰ عہدیدار نے فیکٹری مالکان سے بیس کروڑ بھتہ مانگا تھا، فیکٹری مالکان اس معاملے پربات کرنے گئے تواعلیٰ عہدیدارنے لاتعلقی ظاہرکی اورتلخ کلامی بھی کی، جس کے بعد اس عہدیدارسے پارٹی کی ذمہ داریاں بھی واپس لے لی گئیں اوربھتہ نہ ملنے پرکیمیکل پھینک کرعلی انٹرپرائززنامی فیکٹری کر نذرِ آتش کردیا گیا جس کے نتیجے میں 250 سے زائد افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

report

بلدیہ ٹاؤن فیکٹری آتشزدگی کا مرکزی ملزم رضوان قریشی

رپورٹ میں بتایا گیاہے کہ رضوان قریشی نامی ملزم’کے ایم سی‘کا سینیٹری ورکراورسیاسی جماعت کا کارکن ہے، عدالت نے رینجرز کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹ کو عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنالیاہے۔

رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ اس وقت کے ایک وزیرنے فیکٹری مالکان کے خلاف مقدمہ درج کرایا بعد ازاں سابق وزیرِاعظم نے مالکان کی ضمانت کرائی، تاہم دباؤ پرپیچھے ہٹ گئے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ فرنٹ لائن مین نے کیس ختم کرانےکیلئےفیکٹری مالکان سے پندرہ کروڑروپے وصول کیے۔

رپورٹ کے مطابق ملزم سے میڈیا شخصیات سمیت اہم شخصیات کی فہرست بھی ملی جن کوٹارگٹ کلنگ میں نشانہ بنایا جانا تھا اوراس فہرست میں اے آروائی نیوز کے ایک اینکر پرسن کا نام بھی موجود ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top