بلوچستان میں مقتدرقوتوں کی مداخلت کم ہو گئی،انسانی حقوق کمیشن -
The news is by your side.

Advertisement

بلوچستان میں مقتدرقوتوں کی مداخلت کم ہو گئی،انسانی حقوق کمیشن

کوئٹہ: انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان نے کہا ہے کہ بلوچستان میں مقتدر قوتوں کی مداخلت کم ہوئی ہے۔انسانی حقوق کمیشن کی فیکٹ فائنڈنگ مشن کے بلوچستان کے دورے کے اختتام پر ایچ آر سی پی کی جانب سے کوئٹہ میں میڈیا کو بریفنگ دی گئی ۔

انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان کی چیئرپرسن زہرہ یوسف نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ماضی کی نسبت موجودہ دور حکومت میں امن و امان کی مجموعی صورتحال کو بہتر ی آئی ہے لوگوں کو لاپتہ کئے جانے کے واقعات بھی کم ہوئے ہیں تاہم مکران ڈویژن سے اب بھی شکایات موصول ہورہی ہیں ۔

عمران خان کے سابق ججز پر الزامات کے حوالے سے سوال کے جواب میں کمیشن کی رکن و سابق چیئرپرسن عاصمہ جہانگیر کا کہنا تھا کہ جسٹس (ر) خلیل الرحمن رمدے متنازعہ رہے ہیں جبکہ سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری نے بھی جمہوریت کی خدمت نہ کی،انہوں نے قانون کی حکمرانی قائم کی تاہم وہ انتخابات میں دھاندلی نہیں کراسکتے۔

سائن آف بلوچستان میں صحافیوں کے قتل کے واقعات کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کمیشن کی چیئرپرسن زہرہ یوسف کا کہنا تھا کہ صوبے میں اب تک 40صحافی مارے گئے مگر کسی قاتل کو گرفتار نہیں کیا جاسکا۔

صوبے میں چائلڈ لیبر اور جنسی تشدد کی شکایات بھی موصول ہوئیں ہیں، انہوں نے مطالبہ کیا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالمالک ان معاملات پر خصوصی توجہ دیں۔‘

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں