بلوچستان کے سندھ سے ملحقہ 4اضلاع میں فلڈ ایمرجنسی نافذ -
The news is by your side.

Advertisement

بلوچستان کے سندھ سے ملحقہ 4اضلاع میں فلڈ ایمرجنسی نافذ

بلوچستان :ممکنہ سیلاب کے پیشِ نظر سندھ سے ملحقہ چار اضلاع میں فلڈ ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے، ماہرین آئندہ چوبیس گھنٹے انتہائی اہم قرار دے رہے ہیں۔

گذشتہ تباہ کن سیلاب کی زد میں آنے والے بلوچستان کے نصیر آباد ڈویژن میں ماضی کے تجربات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس مرتبہ بھی جعفر آباد نصیر آباد جھل مگسی اور صحبت پور میں سیلاب آنے کے خطرات کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

اس سلسلے میں بلوچستان حکومت نے فلڈ الرٹ جاری ہونے کے بعد متعلقہ اضلاع میں فلڈ ایمرجنسی نافذ کردی ہے اور ملازمین کی چھٹیاں بھی منسوخ کردی گئی ہیں لیکن مقامی لوگوں خصوصاً زمینداروں میں خاصی بے چینی پائی جاتی ہے۔

نصیر آباد ڈویژن میں موجود سیکرٹری ایریگیشن بلوچستان نصیب اللہ خان بازئی کے مطابق دریائے سندھ میں چھ سے سات لاکھ کیوسک کا ریلہ آنے کی توقع ہے جو باآسانی گزرے جائے گا۔

دوسری جانب پی ڈی ایم اے نے سیلاب کے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کیلئے کنٹرول رومز قائم کرلئے ہیں، ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق آٹھ ہزار خیمے، 700بیگز چاول سمیت دیگر ضروری اشیاء متعلقہ اضلاع پہنچا دی گئی ہیں۔

ماہرین کے مطابق سندھ کے سیلابی ریلے سے بلوچستان کو کوئی خطرہ نہیں تاہم اگر بارشیں ہوئیں یا ماضی کی طرح ٹوڑی بند ٹوٹا تو سندھ سے ملحقہ بلوچستان کے چاروں اضلاع ڈوب سکتے ہیں، ان حقائق و خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے ماہرین آئندہ چوبیس گھنٹے انتہائی اہم قرار دے رہے ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں