بھارت کے سخت بیانات دہشت گردی کے خلاف مہم میں رکاوٹ ہیں،آرمی چیف -
The news is by your side.

Advertisement

بھارت کے سخت بیانات دہشت گردی کے خلاف مہم میں رکاوٹ ہیں،آرمی چیف

واشنگٹن :برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کا کہنا ہے کہ لائن آف کنٹرول پر بھارتی دراندازیوں کے باعث افغان سرحدی علاقوں میں کارروائیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے کا کہنا ہے کہ پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نےامریکا کے دورے کے دوران کہا ہے کہ بھارت کے جارحانہ رویےکی وجہ سے افغان سرحدی علاقوں میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائیوں میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق ایک امریکی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ جنرل راحیل شریف کا کہنا تھا کہ بھارت کی جانب سے سخت بیانات بھی دہشت گردی کے خلاف مہم میں رکاوٹ بن رہے ہیں جبکہ بھارت کا وعدہ تھا کہ وہ سرحد پر امن رکھے گا تاہم ایسا نہیں ہورہا ۔ جس کے باعث پاک فوج کی توجہ بھارت سے متصل سرحد کی جانب ہوجاتی ہے اور افغان سرحدی علاقوں میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائیوں پران کا اثر پڑتا ہے۔

پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے وفد کے ہمراہ امریکی فوجی قیادت سے ملاقات کی اور اہم امور پر تبادلہ خیال کیا، جنرل راحیل کی قیادت میں پاکستانی وفد نے چئیرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل مارٹن ڈیمپسی اورامریکی نائب وزیردفاع سے ملاقات میں افغانستان سے امریکی افواج کے انخلاء کے بعد خطے کی سیکیورٹی صورتحال پر بات کی ۔ پاکستانی وفد نے آپریشن ضرب عضب میں دہشت گردوں کے خاتمے سے متعلق تفصیلات سے آگاہ کیا ۔ پاک افغان سرحدی صورت حال اور بھارت سے سرحدی کشیدگی کے امور پر بھی گفتگو کی گئی۔

اس موقع پر امریکی چیف آف آرمی اسٹاف اور بحریہ کے جونئیرکمانڈنٹ جوزف ڈنفورڈ بھی موجود تھے۔ دوسری جانب امریکی دفترخارجہ کے ترجمان جیف راتھکی نے اپنے بیان میں شدت پسند تنظیموں کو نہ صرف پاکستان اور امریکا بلکہ پورے خطے کے لئے خطرہ قراردیا ہے۔

ترجمان کا مشیرخارجہ کے مشیرسرتاج عزیز کے بیان کے حوالے سے کہنا تھا کہ امریکا پاکستانی حکومت کی وضاحت کا خیرمقدم کرتا ہے کہ وہ ہرطرح کی دہشت گردی کے خلاف ہے اورشمالی وزیرستان میں تمام دہشت گردوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں