تبدیلی آنی چاہیئے ورنہ ہم پھنسے رہیں گے، سابق صدر پرویز مشرف -
The news is by your side.

Advertisement

تبدیلی آنی چاہیئے ورنہ ہم پھنسے رہیں گے، سابق صدر پرویز مشرف

اسلام آباد :  سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف  نے کہا کہ تبدیلی کا مطالبہ عوام کا ہے اسی لئے وہ نکلیں ہیں، تبدیلی آنی چاہیئے ورنہ ہم پھنسے رہیں گے۔

اے آر وائی نیوز کے پروگرام کھرا سچ کے اینکر پرسن مبشر لقمان کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئےسابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کا کہنا تھا کہ جتنی مرتبہ بھی ملک میں جمہوریت آئی ہے ملک میں ترقی نہیں ہوئی ہے،ملک سنگین بحران کیطرف جارہاہے، عوام کی عدالتوں میں سنوائی نہیں ہورہی خطے میں ایک بڑا گیم پلان چل رہا ہے ۔

سابق صدر کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال سے عوام پریشان ہورہی ہے، نظام کی تشکیلِ نو کی ضرورت ہے،وفاق کو مضبوط کرکے نئے صوبے بنانے کی ضرورت ہے، حکمران جو جمہوریت چلا رہے ہیں وہ اصل نہیں ہے، ، جوبھی نظام ہووہ ملک اور عوام کو خوشحالی دے۔

ان کا کہنا تھا کہ این آر او کرکے مجھے ذاتی کوئی فائدہ نہیں ہوا ، این آر او سے پیپلز پارٹی کے تمام کیسزز ختم ہوئے، اب سوچتا ہوں کہ این آر او نہیں کرنا چاہیئے تھا، ملک میں ایک تیسری سیاسی قوت کی ضرورت ہے۔

طاہرالقادری کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ طاہرالقادری تبدیلی مانگ رہے ہیں اور آنی چاہیئے2007کے بعد سے پاکستان میں ترقی رک گئی ہے، پہلےتبدیلیاں آئیں اور اس کے بعد انتخابات ہوں۔ اسلام آباد دھرنے کی حقیقت کو جھٹلایا نہیں جاسکتا۔

ان کا کہنا تھا کہ جب تک پاکستان میں فوج ہے پاکستان میں بلکنائزیشن نہیں ہوگی، 1999میں قوم فوج کے طرف دیکھ رہی تھی اور آج بھی یہی ہورہا ہےملک میں ،1999 کی طرح معاشی، سماجی صورتحال ہے، ہم سمجھتے میں فوج وہ فیصلہ کرے گی جو ملک کے حق میں ہوگا۔ امریکا کو مشورہ ہے کہ پاکستان نے داخلی معمالات میں دخل نہ دے، میرے معملات واضع تھے سب سے پہلے پاکستان ، میں آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرتا ہوں۔

سابق صدر نے کہا کہ افضل خان نے چوہدری افتخار کو بے نقاب کردیا،2007میں افتخار چوہدری کو بے نقاب کرنے کی کوشش کی، افتخار چوہدری کی کرپشن کا ریفرنس سپریم جوڈیشنل کونسل میں بھجی گئی مگر اسکی سنوائی نہیں ہوئی، افتخار چوہدری کی کرپشن کے ثبوت ریفرینس میں موجود تھے ۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں