تحریک کا بوجھ مزید نہیں اٹھا سکتا، الطاف حسین -
The news is by your side.

Advertisement

تحریک کا بوجھ مزید نہیں اٹھا سکتا، الطاف حسین

کراچی: متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے لندن سے ٹیلیفونک خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب میں تحریک کی ذمہ داریوں کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا۔

وہ کراچی میں منعقدہ جنرل ورکرز کے اجلاس سے خطاب کررہے تھے اور ان کا کہنا تھا کہ کئی معاملات میں ناکردہ گناہوں کی سزا بھگت رہا ہوں، میری تعلیمات کا مذاق اڑایا جاتا رہا ہے، آج ہی رابطہ کمیٹی سے ایک شخص نامزد کیا جائے جو رابطہ کمیٹی کو سنبھالے۔

انہوں نے کہا کہ قوم کے لئے کئی دکھ برداشت کئے اپنے ہی ملک میں در بدر ہوتا رہااور اب کئی سال ہوگئے ہین کہ اپنوں سے دور ہوں جبکہ میرا نہ کسی سے اختلاف ہے اور نہ ہی کسی سے جھگڑا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ برطانیہ میں میرا جو بھی حشر ہوجائے لیکں حقائق منظر ِ عام پرلاؤں گا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان بنانے کے لئے بیس لاکھ جانوں کی قربانیاں دیں تھی تو نیا پاکستان بنانے کے لئے بھی بیس لاکھ قربانیاں دے سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر سویلین اور فوجی حکمران مجھے پاکستان آنے دیں تو پندرہ دن میں کراچی اور چھ مہینے میں ملک کو پاک و صاف کردوں گا۔

کارکنوں نےان کے اعلان کو خیر مقدم کیا اور اس عزم کا اعادہ کیاکہ اگر ایم کیو ایم کے قائد وطن تشریف لاتے ہیں تو کارکن ان کی حفاظت کے لئے سر دھڑ کی بازی لگادیں گے، جس پر الطاف حسین نے اپنی صحت کی بحالی تک کارکنوں کو منظم ہونے کا حکم دیا۔

ان کاکہنا تھا کہ کراچی میں آج بھی آپریشن جاری ہے اور حکمران آپریشن کے بارے میں غلط بیانی سے کام لے رہے ہیں۔

الطاف حسین کا کہنا تھا کہ بانوے میں متحدہ قومی موومنٹ پر بے تحاشہ ظلم ڈھائے گئے اگر ہم مقابلے پرآجاتے پندرہ ہزار کے بجائے ایک یا دو لاکھ افراد مارے جاتے۔ بہتر بڑی مچھلیوں کی فہرست دی گئی میں آصف زرادری کا نام بھی تھا، میں نے کہا تھا کہ یہ فہرست دکھاوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں نے آج تک کارکنوں سے کوئی بات نہیں چھپائی ہے اورآج میں جو کچھ بھی کہوں گا اس پر آپ لوگوں کو غصہ آئے گا لیکن آپ خاموشی سے مان لیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم کے عہدیداران کو اختیارات کا ناجائز استعمال نہ کرنے کی ہدایت پرذمہ داریاں دی گئی لیکن میری جانب سے دیا گیا اختیار بدقسمتی سے ذاتی پسند اورناپسند میں تبدیل ہوگیا ہے۔ حد یہ ہے کہ ایم این اے اور ایم پی اے کے لئے بھی سفارش ہورہی ہے۔

انہوں نے اس بات پرشدید افسوس کا اظہار کیا کہ تنظیم کے شہیدوں کو نظر انداز کیا جارہا ہے، ان کے بچوں کے پاؤں میں چپل بھی نہیں ہوتی۔

انہوں نے خطاب میں اے آر وائی نیوز کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کی تقریر کے براہ راست ٹیلی کاسٹ کیا گیا، اس کے ساتھ ہی انہوں نے جیو کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ آپ کی تو پالیسی ہے جیو اور جینے دو تو کود بھی جئیں اور ہمیں بھی جینے دیں۔

ان کی تقریر کے دوران اور تقریر کے بعد بھی کارکنان جذباتی انداز میں نعرے لگاتے رہے اور الطاف حسین سے محبت کا اظہار کرتے رہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں