The news is by your side.

Advertisement

تمام ترکوششوں کے باوجود ڈالر 102 روپے کا ہوگیا

کراچی : رواں مالی سال کے پہلے چھ ماہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں ڈیڑھ فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔اسٹیٹ بینک کی مداخلت کے باعث روپے کی قدر میں مصنوعی استحکام دیکھا جارہا ہے۔

رواں مالی سال کے پہلے چھ ماہ میں ڈالر کی قدر ڈیڑھ فیصد اضافے کے بعد ایک سو دو روپے ہوگئی، کرنسی مارکیٹ ڈیلرز کے مطابق اسٹیٹ بینک روپے کی قدرمستحکم رکھنے کیلئے مسلسل مارکیٹ میں مداخلت کر رہا ہے۔

جس کے باعث انٹر بینک مارکیٹ میں تو ڈالر کی قدر ایک سو دو روپےسےکم ہے مگر اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قدر ایک سو دو روپے ہو گئی ہے۔

کرنسی مارکیٹ ڈیلرز کے مطابق موجودہ صورت حال میں اگر اسٹیٹ بینک کی مداخلت ختم ہوجاتی ہے تو روپےکی قدر میں ٹھیک ٹھاک کمی آئے گی۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں