The news is by your side.

Advertisement

تھر: قحط کی تباہ کاریاں جاری،مزید 2 بچے دم توڑ گئے

تھرپارکر:  قحط سے صورتحال دن بدن سنگین ہوتی جا رہی ہے، تھرپارکر میں قحط کی تباہی تین سال سے جاری ہے، سول اسپتال مٹھی میں خوراک کی قلت کا شکار بچوں کی ھلاکتوں کا سلسلہ بھی رک نھیں سکا،سول اسپتال مٹھی میں مزید دو بچے ڈیڈ ہ ماہ کا قاسم علی اور دو ماہ کا مظہر علی بجیر دم توڑگئے، اس ماہ میں ہلاکتوں کی تعداد بارہ ہو گئی ہے۔

وادی سندھ کے علاقے تھر پا رکر کی جہاں قحط کے مارے افراد کا کوئی پرسان حا ل نہیں انسان ہوں یا مویشی سب ہی غذائی قلت کا شکار ہیں، سول اسپتال مٹھی میں مزید دو نو مولود بچے ڈیڑھ ماہ کا قاسم اور دو ماہ کا مظہرجان کی بازی ہار گئے۔

ھرپارکر میں مویشویوں میں بھی مٹی سے بھرے پودے کھانے سے تیر کی بیماری جاری ہے، جس سے بکریوں اور بھیڑوں کے مرنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

تھرپارکر میں قحط سے دو بچوں کی ہلاکت اور مویشیوں میں بیماری کے باعث سندھ حکومت نے تھر کو آفت زدہ علائقی بھی قرار نھیں دیا، تھر قحط پالیسی منظور نہ ہو سکی،گندم کی تقسیم کے لئے بھی مزید سخت پالیسی بنادی گئی۔

محکمہ وٹنرری کی جانب سے ابھی کوئی ٹیم گاؤں میں نھیں بھیجی جاتی، سندھ حکومت نے ڈپٹی کمشنر تھرپارکر کی جانب سے آفت زدہ علاقہ قرار دینے کے لئے لیٹر بھی بھیج دیا ہے مگر سندھ حکومت نے ابھی تک آفت زدہ علائ قہ قرار دینے کا نوٹیفکیشن جاری نھیں کیا، نہ ہی اعلان کردہ گندم کی تقسیم شروع کی جا سکی ہے۔

گندم کی تقسیم کو بھی سخت پالیسی بنا کر قحط متاثرین کو مزید دربدر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور ڈی سی تھر کی جانب سے بنائی گئی پالیسی کو منظوری کے لئے سندھ حکومت کو بھیج دی گئی ہے، تھر کے لئے قحط پالیسی بھی سندھ اسمبلی میں منظوری کے لئے پیش بھی نھیں کیا گیا۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں